نورالقرآن نمبر 2

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 428 of 581

نورالقرآن نمبر 2 — Page 428

روحانی خزائن جلد ۹ ۴۲۶ نور القرآن نمبر ۲ جسمانی نعمتوں کے وعدے نہ دیئے جاتے ۔ کیا میسوع نے یہ نہیں کہا کہ میں بہشت میں شیرہ انگور پیوں گا ۔ عجیب یسوع ہے ۔ جو مسلمانوں کی بہشت میں داخل ہونے کی تمنا رکھتا ہے ۔ جس میں جسمانی نعمتیں بھی ہیں ۔ اور پھر عجیب تر یہ کہ جسمانی نعمتوں پر ہی گرا ۔ دیدار الہی کا ذکر نہیں کیا ۔ لعاذر سے پانی مانگنا بھی ذرہ یاد کرو ۔ جس بہشت میں پانی نہیں ۔ اس میں پانی کا ذکر مصداق اس مثل کا ہے کہ دروغ گو را حافظہ نباشد ۔ یہ سچ ہے کہ بہشت میں رہنے والے فرشتوں کی طرح ہو جائیں گے مگر یہ کہاں ثابت ہے کہ تبدیل خواص کر کے ☆ فی الحقیقت فرشتے ہی ہو جائیں گے اور انسانی خواص چھوڑ دیں گے ۔ ہاں یہ درست ہے کہ بہشت میں دنیا کی طرح نکاح نہیں ہوتے مگر بہشتی طور پر جسمانی لذات تو ہوں گے جیسے یسوع کو بھی انکار نہیں تھا ۔ شیره انگور پینے کی امید کرتا گذر گیا ۔ توریت سے ثابت ہے کہ جسمانی جزا بھی خدا کی عادت ہے تو پھر کیونکر ممکن ہے کہ وہ غیر متبدل خدا قیامت کو اپنی عادتیں بدل ڈالے ۔ تیسرا اعتراض آپ کا یہ ہے کہ اسلامی تعلیم میں ہے کہ جب تک کو ئی کسی گناہ کا مرتکب نہ ہو جائے تب تک ایسے شخص سے مواخذہ نہ ہوگا اور محض ولی خیالوں پر خدا پرسش نہیں کرے گا مگر انجیل میں اس کے خلاف ہے یعنی دلی خیالات پر بھی عذاب ہو گا ۔ اما الجواب ۔ پس واضح ہو کہ اگر انجیل میں ایسا ہی لکھا ہے تو ایسی انجیل ہرگز خدا تعالی نوٹ : در حقیقت فرشتے بن جانا اور بات ہے مگر پاکیزگی میں اُن سے مشابہت پیدا کرنا یہ اور بات ہے۔ منہ ۳۳