نورالقرآن نمبر 2

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 389 of 581

نورالقرآن نمبر 2 — Page 389

روحانی خزائن جلد ۹ ۳۸۷ نور القرآن نمبر ۲ لکھتا ہوں ذرا آنکھیں کھول کر پڑھو اور وہ یہ ہے و قد كنت اعلم انه خارج و لم اكن اظن انه منكم فلو انى اعلم اني اخلص اليه لتجشمت لقاء ه و لو كنت عنده لغسـلـت عـن قـدميـه دیکھو ص ۴ یعنی یہ تو مجھے معلوم تھا کہ نبی آخر الزمان آنے والا ہے مگر مجھ کو یہ خبر نہیں تھی کہ وہ تم میں سے ہی (اے اہل عرب ) پیدا ہو گا پس اگر میں اس کی خدمت میں پہنچ سکتا تو میں بہت ہی کوشش کرتا کہ اس کا دیدار مجھے نصیب ہو اور اگر میں اس کی خدمت میں ہوتا تو میں اس کے پاؤں دھویا کرتا اب اگر کچھ غیرت اور شرم ہے تو مسیح کے لئے یہ تعظیم کسی بادشاہ کی طرف سے جو اس کے زمانہ میں تھا پیش کرو اور نقد ہزار روپیہ ہم سے لو اور کچھ ضرورت نہیں کہ انجیل سے ہی بلکہ پیش کرو اگر چہ کوئی نجاست میں پڑا ہوا ورق ہی پیش کردو اور اگر کوئی بادشاہ یا امیر نہیں تو کوئی چھوٹا سا نواب ہی پیش کر دو اور یا درکھو کہ ہرگز پیش نہ کر سکو گے پس یہ عذاب بھی جہنم کے عذاب سے کچھ کم نہیں کہ آپ ہی بات کو اٹھا کر پھر آپ ہی ملزم ہو گئے ۔ شاباش ! شاباش ! شاباش! خوب پادری ہو ۔ مسیح کا چال چلن آپ کے نزدیک کیا تھا۔ ایک کھاؤ پیو۔ شرابی۔ نہ زاہد نہ عابد۔ نہ حق کا پرستار ۔ متکبر ۔ خود بین ۔ خدائی کا دعوی کرنے والا ۔ مگر اس سے پہلے اور بھی کئی خدائی کا دعوے کرنے والے گذر چکے ہیں ایک مصر میں ہی موجود تھا۔ دعووں کو الگ کر کے کوئی اخلاقی حالت جو فی الحقیقت ثابت ہو ذرا پیش تو کرو تا حقیقت معلوم ہو۔ کسی کی محض باتیں ان کے اخلاق میں داخل نہیں ہو سکتیں ۔ آپ اعتراض کرتے ہیں کہ وہ مرتد جو خود خونی اور اپنے کام سے سزا کے لائق ٹھہر چکے تھے