نورالقرآن نمبر 2

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 368 of 581

نورالقرآن نمبر 2 — Page 368

روحانی خزائن جلد ۹ ۳۶۶ نور القرآن نمبرا حج کیا اور اس کا نام حجتہ الوداع رکھا اور ہزار ہا لوگوں کی حاضری میں ایک اونٹنی ۲۷ پر سوار ہو کر ایک لمبی تقریر کی اور کہا کہ سنو ! اے خدا کے بندو! مجھے میرے رب کی طرف سے یہ حکم ملے تھے کہ تا میں یہ سب احکام تمہیں پہنچا دوں پس کیا تم گواہی دے سکتے ہو کہ یہ سب باتیں میں نے تمہیں پہنچا دیں ۔ تب ساری قوم نے بقیہ حاشیہ: اس سامان کو اپنے ساتھ لائی ہے اور اسی پر متنبہ کرنے کے لئے ظاہری قربانیاں بھی رکھی گئیں ۔ یہ وہ واقعی حقیقت ہے۔ جس کو کو نہ اندیش اور بدقسمت ہندوؤں اور عیسائیوں نے نہیں سمجھا اور روحانی حقیقتوں پر غور نہیں کی اور نہایت بد اور مکروہ اور تاریک خیالات میں پڑ گئے ۔ میں نے کبھی کسی چیز پر ایسا تعجب نہیں کیا جیسا کہ ان لوگوں کی حالت پر تعجب کرتا ہوں کہ جو کامل اور زندہ اور حتی و قیوم خدا کو چھوڑ کر ایسے بے ہودہ خیالات کے پیرو ہیں اور ان پر ناز کرتے ہیں ۔ پھر ہم اصل مطلب کی طرف عود کر کے کہتے ہیں کہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اصلاح نہایت وسیع اور عام اور مسلم الطوائف ہے۔ اور یہ مرتبہ اصلاح کا کسی گذشتہ نبی کو نصیب نہیں ہوا۔ اور اگر کوئی عرب کی تاریخ کو آگے رکھ کر سوچے تو اسے معلوم ہوگا کہ اس وقت کے بت پرست اور عیسائی اور یہودی کیسے متعصب تھے اور کیونکر ان کی اصلاح کی صد ہا سال سے نومیدی ہو چکی تھی ۔ پھر نظر اٹھا کر دیکھئے کہ قرآنی تعلیم نے جو ان کے بالکل مخالف تھی کیسی نمایاں تاخیر میں دکھلائیں اور کیسی ہر یک بد اعتقادی اور ہریک بد کاری کا استیصال کیا۔ شراب کو جو ام الخبائث ہے دور کیا۔ قمار بازی کی رسم کو موقوف کیا دختر کشی کا استیصال کیا اور جو انسانی رحم اور عدل اور پاکیزگی کے برخلاف عادات تھیں سب کی اصلاح کی ۔ ہاں مجرموں نے اپنے جرموں کی سزائیں بھی پائیں جن کے پانے کے وہ سزا وار تھے ۔ پس اصلاح کا امرایسا امر نہیں ہے جس سے کوئی انکار کر سکے ۔ اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ اس زمانہ کے بعض حق پوش پادریوں نے جب دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے اس قدر عام اصلاح ہوئی کہ اس کو کسی طرح چھپا نہیں سکتے اور اس کے مقابل پر جو مسیح نے اپنے