نورالقرآن نمبر 2 — Page 362
روحانی خزائن جلد ۹ ۳۶۰ نور القرآن نمبرا جب نبوت کے ساتھ ظہور فرما ہوئے تو آتے ہی اپنی ضرورت دنیا پر ثابت کر دی۔ اور ہر یک قوم کو ان کے شرک اور ناراستی اور مفسدانہ حرکات پر ملزم کیا جیسا کہ قرآن کریم اس سے بھرا ہوا ہے۔ مثلاً اسی آیت کو سوچ کر دیکھو جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (۲۳) تَبرَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَلَمِينَ نَذِيرًا بقیہ حاشیہ: لیکن بعض ان کے بعض پر گواہ ہیں۔ مثلاً ایک شخص رام چندر اور کرشن جی کا پوجا کرنے والا اور ان کو خدا ٹھہرانے والا اس بات سے تو کبھی باز نہیں آئے گا کہ وہ رام چندر اور کرشن کو انسان محض قرار دے بلکہ بار بار اسی بات پر زور دے گا کہ ان دونوں بزرگوں میں پرم آتما کی جوت تھی اور وہ باوجود انسان ہونے کے خدا بھی تھے اور اپنے اندر ایک جہت مخلوقیت کی رکھتے تھے۔ اور ایک جہت خالقیت کی اور مخلوقیت ان کی حادث تھی اور ایسا ہی مخلوقیت کے عوارض بھی یعنی مرنا اور دکھ اٹھانا یا کھانا پینا سب حادث تھے ۔ مگر خالقیت ان کی قدیم ہے اور خالقیت کی صفات بھی قدیم لیکن اگر ان کو کہا جائے کہ اسے بھلے مانسو اگر یہی بات ہے تو ابن مریم کی خدائی کو بھی مان لو اور بے چارے عیسائی جو دن رات یہی سیا پا کر رہے ہیں ان کی بھی تو کچھ خاطر رکھو کہ چون آب از سرگذشت چه نیزه چه بالشت ۔ تب وہ حضرت مسیح کی اس قدر بدتہذیبی سے تکذیب کرتے ہیں کہ خدائی تو بھلا کون مانے اس غریب کو نبوت سے بھی جواب دیتے ہیں بلکہ بسا اوقات گالیوں تک نوبت پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کو سری مہاراج برہم مورت رام چندر جی اور کرشن گوپال رو در سے کیا نسبت وہ تو ایک آدمی تھا جس نے پیغمبری کا جھوٹا دعویٰ کیا کہاں سری مہاراج کرشن جی اور کہاں عیسی مریم کا پوتر ۔ اور تعجب ہے کہ اگر عیسائیوں کے پاس ان دونوں مہاتما اوتاروں کا ذکر کیا جائے تو وہ بھی ان کی خدائی نہیں مانتے بلکہ بے ادبی سے باتیں کرتے ہیں حالانکہ دنیا میں خدائی کی پہلے پہل بنا ڈالنے والے یہی دونوں بزرگ ہیں اور چھوٹے چھوٹے خداؤں کے مورث اعلیٰ اور ابن مریم وغیرہ تو پیچھے سے نکلے ان کی شاخیں ہیں اور عیسائی مسیح کے خدا بنانے میں انہیں لوگوں کے نقش قدم پر چلے ہیں جنہوں نے ان مہاتماؤں کو خدا ل الفرقان :