نورالقرآن نمبر 1 — Page 387
روحانی خزائن جلد ۹ ۳۸۵ نور القرآن نمبر ۲ سمجھتا کہ خدمت میں حاضر ہو جاؤں اور غلاموں کی طرح جناب مقدس کے پاؤں دھویا کروں مگر ایک خبیث اور پلید دل پادشاہ کسرای ایران کے فرمان روانے غصہ میں آکر آپ کے پکڑنے کے لئے سپا ہی بھیج دیئے وہ شام کے قریب پہنچے اور کہا کہ ہمیں گرفتاری کا حکم ہے آپ نے اس بے ہودہ بات سے اعراض کر کے فرمایا تم اسلام قبول کر و ۔ اس وقت آپ صرف دو چار اصحاب کے ساتھ مسجد میں بیٹھے تھے مگر ربانی رعب سے وہ دونوں بید کی طرح کانپ رہے تھے آخر انہوں نے کہا کہ ہمارے خداوند کے حکم یعنی گرفتاری کی نسبت جناب عالی کا کیا جواب ہے کہ ہم جواب ہی لے جائیں حضرت نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا کل تمہیں جواب ملے گا ۔ صبح کو جو وہ حاضر ہوئے تو آنجناب نے فرمایا کہ وہ جسے تم خداوند خداوند کہتے ہو ۔ وہ خدا وند نہیں ہے خداوند وہ ہے جس پر موت اور فنا طاری نہیں ہوتی مگر تمہارا خداوند آج رات کو مارا گیا میرے بچے خدا وند نے اسی کے بیٹے شیر و یہ کو اس پر مسلط کر دیا سو وہ آج رات اس کے ہاتھ سے 2 قتل ہو گیا اور یہی جواب ہے ۔ یہ بڑا معجزہ تھا ۔ اس کو دیکھ کر اس ملک کے ہزار ہا لوگ ایمان لائے کیونکہ اسی رات در حقیقت خسرو پرویز یعنی کسر کی مارا گیا تھا اور یا د رکھنا چاہئے کہ یہ بیان انجیلوں کی بے سروپا اور بے اصل باتوں کی طرح نہیں بلکہ احادیث صحیحہ اور تاریخی ثبوت اور مخالفوں کے اقرار سے ثابت ہے ۔