نورالقرآن نمبر 1 — Page 355
روحانی خزائن جلد ۹ ۳۵۳ نور القرآن نمبرا سے ہونے کی ہے جو کاذب کو ہرگز نہیں دی جاتی بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بقیہ حاشیہ تھے اور ان کی محبت سے دوسرے لوگ بھی تباہ ہو گئے تھے۔ حقیقی ضرورت اس کا نام ہے یا وہ جو انجیل کے لئے پیش کی جاتی ہے مسیح کی جان گئی اور عیسائی پہلے سے بھی بدتر ہو گئے اگر ٹھا کر واس صاحب چاہیں تو ہم دس ہزار تک ایسے شعر پیش کر سکتے ہیں جن میں مخالفین نے اپنے جرائم ورزی کا اقرار کیا ہے۔ اب بھی بعض بعض جرائم میں عیسائی سب سے اول نمبر پر ہیں۔ اس اُم الخبائث شراب کی نسبت ہی دیکھئے کہ صرف ایک شہر لنڈن میں شراب کی اس قدر دکا نہیں ہیں کہ حساب کیا گیا کہ اگر ان کو ایک لائن میں لگائیں تو ۷۵ میل میں آئیں۔ زانیہ عورتوں کی انگلستان میں اس قدر کثرت ہے کہ خاص لنڈن میں ایک لاکھ سے کچھ زیادہ ہوں گی اور جو خفیہ طور پر پاک دامن لیڈیوں کی بہادری سے ولد الحرام پیدا ہوتے ہیں بعض نے حساب کیا ہے کہ وہ فیصدی ۷۵ ہیں۔ قمار بازی کا وہ زور شور ہے کہ خدا کی پناہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم کے دلوں سے عظمت الہی بالکل اٹھ گئی ہے۔ انسان کو خدا بنا چھوڑا ہے۔ بدیوں کو نیکی سمجھ لیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ مسیح کی خود کشی کے خیال نے ان کو ہلاک کر دیا اور جس قدر توریت کے احکام بدکاریوں سے بچنے کے متعلق اور نیک راہوں پر چلنے کے تھے کفارہ نے سب سے فراغت کر دی۔ اسلام سے اس قدر دشمنی ان لوگوں کو ہے جس قدر شیطان کو دشمنی سچائی سے ہے کوئی ان میں سے غور نہیں کرتا کہ اسلام نے کون سی نئی بات پیش کی جو قابل اعتراض ہے۔ موسیٰ نے کئی لاکھ بے گناہ بچے مار ڈالے کوئی عیسائی نہیں کہتا کہ برا کام کیا ۔ لیکن ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر تلوار اٹھائی جنہوں نے پہلے تلوار اٹھائی۔ اور ان کو مارا جو پہلے بہت سے مسلمانوں کو مار چکے تھے مگر پھر بھی آپ نہیں بلکہ اس وقت جب کہ انہوں نے خود تعاقب کیا اور خود چڑھائی کی نہ بچوں کو مارا نہ بوڑھوں کو بلکہ جو مجرم ہو چکے تھے انہیں کو سزا دی گئی ۔ یہ سزا عیسائیوں کو بہت بری معلوم ہوتی ہے۔ جابجا یہی سیا پا کرتے ہیں کیا اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ مارے بغض کے ان کے دل سیاہ ہو گئے۔ غضب کی بات ہے کہ عاجز انسان کو خدا کہہ کر ان کا بدن نہیں کانپتا کچھ بھی باز پرس کے دن کا ان کو خوف نہیں آتا ۔ اگر حضرت مسیح ایک دن