نورالقرآن نمبر 1

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 350 of 581

نورالقرآن نمبر 1 — Page 350

روحانی خزائن جلد ۹ ۳۴۸ نور القرآن نمبرا (۱۵) میں نہایت عجیب اور حیرت انگیز تبدیلیاں پیدا کر چکا اور تربیت کو کمال تک ار ۱۵ کی بقیہ حاشیہ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر دیوان اخطل میں ایک اور شعر ہے جو اس وقت ہم وہ بھی ہدیہ ناظرین کرتے ہیں اور وہ یہ ہے: ان من يدخل الكنيسة يومًا يـلـقـى فـيـهـا جأذر و ظباء" ترجمہ اس شعر کا یہ ہے کہ اگر ہمارے گر جا میں کسی دن کوئی جائے تو بہت سے گوزن بچے اور ہرن اس میں پائے گا یعنی بہت سی خوبصورت اور جوان اور با جمال اور چست عورتوں کو دیکھ کر حظ اٹھائے گا یعنی گویا اس میں میاں اخطل لوگوں کو رغبت دیتے ہیں کہ ضرور گر جا میں جانا چاہیے اور یہ لطف اٹھانا چاہیے۔ اب اس شعر سے دو باتیں نکلتی ہیں۔ اول یہ کہا اخطل نے اپنی قوم کے لئے کوئی گر جا بھی بنایا ہوا تھا جس میں وہ ایک پادری کی حیثیت سے جایا کرتا تھا اور بظاہر انجیل اپنے ہاتھ میں لے کر لوگوں کی لڑکیوں اور بہوں کو تاڑا کرتا تھا اور انہیں سے ناجائز تعلقات کر رکھے تھے۔ دوسری یہ بات پیدا ہوتی ہے کہ ان ناجائز تعلقات کو قوم کچھ بھی پر انہیں مانتی تھی اور ایسے نظر باز کو گر جائے نہیں نکالتی تھی اور پادری کے منصب سے علیحدہ نہیں کرتی تھی حالانکہ ان کو کم سے کم یہ تو خبر تھی کہ یہ شخص نا پاک دل ہے اور نا پاک حرکات کا دل میں قصد رکھتا ہے کیونکہ اس کے گندے شعر جو یا رانہ اور آشنائی پر دلالت کرتے تھے قوم سے مخفی نہیں تھے پس اس سے بڑھ کر اس بات پر اور کیا دلیل ہوگی کہ وہ ساری قوم ہی فسق و فجور میں مبتلا تھی اور ان کے گرجے طوائف کی کوٹھیوں کی طرح تھے اور ان مردوں عورتوں کے جمع ہونے کے لئے جو بد وضع اور ناپاک خیال تھے گرجوں سے بہتر اور کوئی مکان نہ تھا یعنی وہ گر جوں ہی میں اپنے نفسانی جذبات کے پورا کرنے کے لئے موقعہ پاتے تھے۔ اور اخطل صرف اپنے ہی نفسانی جذبات میں مبتلا نہیں تھا بلکہ وہ عیسائیوں کی کسی عورت یا لڑکی کو بھی پاک دامن نہیں سمجھتا تھا۔ چنانچہ اس کے دیوان اخطل میں جس کے ساتھ عیسائی محققوں نے اس کی لائف کو بھی شائع کی ہے۔ اس کی سوانح میں یہ درج کیا ہے