نورالقرآن نمبر 1 — Page 346
روحانی خزائن جلد ۹ ۳۴۴ نور القرآن نمبرا ب الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا بقیہ حاشیہ سے اوّل نمبر پر ہو گئے ۔ تو جیسے ایک سفلہ آدمی فقر و فاقہ کا مارا ہوا دولت اور حکومت پا کر اپنے لچھن دکھلاتا ہے وہ سارے لچھن ان لوگوں نے دکھلائے اول وحشیوں اور سخت ظالموں کی طرح وہ خونریزیاں کیں اور ناحق بے موجب کئی لاکھ انسانوں کو قتل کیا اور وہ بے رحمیاں دکھلائیں جن سے بدن کانپ اٹھتا ہے اور پھر امن اور آزادی پا کر دن رات شراب خواری، زنا کاری، قمار بازی میں شغل رکھنے لگے ۔ چونکہ ان کی بدبختی سے کفارہ کی تعلیم نے پہلے ہی ان کو بدکاریوں پر دلیر کر دیا تھا اور صرف ستر بی بی از بے چادری کا مصداق تھی۔ اب جو بچھی بھی ان کے گھر میں آگئی تو پھر کیا تھا ہر ایک بدکاری پر ایسے ٹوٹ پڑے جیسے ایک زور دار سیلاب اپنے چلنے کی ایک کھلی کھلی راہ پا کر زور سے چلتا ہے اور ملک پر ایسا بداثر ڈالا کہ غافل اور نادان عرب بھی انہیں کے بداثر سے پیسے گئے وہ تو امی اور ناخواندہ تھے ۔ جب انہوں نے اپنے ارد گر د عیسائیوں کی بداعمالیوں کا طوفان پایا تو اس سے متاثر ہو گئے۔ یہ بات بڑی تحقیق سے ثابت ہوئی ہے کہ عربوں میں قمار بازی اور شراب خواری اور بدکاری عیسائیوں کے خزانہ سے آئی تھی اخطل عیسائی جو اس زمانہ میں ایک بڑا شاعر گذرا ہے۔ جس کا دیوان بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور حال میں بیروت میں ایک عیسائی گروہ نے بڑے اہتمام اور خوبصورتی سے وہ دیوان چھاپ کر جابجا شائع کیا ہے چنانچہ اس ملک میں بھی آگیا ہے اس دیوان میں کئی ایک شعر اس کی یادگار ہیں۔ جو اس کی اور اس وقت کے عیسائیوں کی اندرونی حالت کا نمونہ ظاہر کر رہے ہیں ۔ منجملہ ان کے ایک یہ ہے ا المآئدة: "بان الشباب و ربـمـا عـلـلتــه بالغانيات وبالشراب الأصهب " یعنی جوانی مجھ سے جدا ہو گئی اور میں نے اس کے روکنے کے لئے کئی مرتبہ اور بہت دفعہ یہ حیلہ کیا ہے کہ خوبصورت عورتوں اور سرخ شراب کے ساتھ اپنا شغل رکھا ہے۔