نشانِ آسمانی — Page 386
روحانی خزائن جلد۴ ۳۸۶ نشان آسمانی یا کوئی مشتبہ امر بیان کرے گا جو ٹھیک ٹھیک یاد نہیں رہا تو خدائے تعالیٰ کے سامنے اس کا جواب دینا پڑے گا۔ بلکہ سچائی کے امتحان کی غرض سے نہایت سختی سے اس پیرمرد کو کہا گیا کہ آپ اب اس بات کو خوب سوچ لیں اور سمجھ لیں کہ اگر آپ کے بیان میں ایک لفظ بھی خلاف واقعہ ہوگا تو اس کا بوجھ آپ کی گردن پر ہوگا اور حشر کے دن میں وہ طوق لعنت گردن میں پڑے گا جو مفتریوں کی گردن میں پڑا کرتا ہے۔ پھر بار بار کہا گیا کہ اے میاں کریم بخش آپ پیر مرد آدمی ہیں اور جیسا کہ سنا جاتا ہے تقویٰ اور صوم وصلوۃ کی پابندی سے آپ کا زمانہ گذرا ہے اب اس بات کو یا درکھو کہ اگر یہ پیشگوئی میاں گلاب شاہ کی جو اس عاجز کی نسبت آپ بیان کرتے ہیں ایک مشتبہ امر ہے یا خلاف واقعہ ہے تو اسکے بیان کرنے سے تمام اعمال خیر سابقہ تمہارے ضائع اور برباد ہو جائیں گے اور ناراض نہ ہونا یقیناً سمجھو کہ اس افترا کی سزا میں تم جہنم میں ڈالے جاؤ گے۔ اگر یقینی طور پر یہ امر واقعی نہیں تو میرے لئے اپنے ایمان کو ضائع مت کرو میں نہ اس جہان میں تمہارے کام آ سکتا ہوں نہ اُس جہان میں ۔ جو مجرم بن کر خدائے تعالیٰ کے سامنے جائے گا اس کیلئے وہ جہنم ہے جس میں وہ نہ مرے گا اور نہ زندہ رہے گا۔ بد بخت ہے وہ انسان جو افترا کر کے اپنے مالک کو ناراض کرے اور سخت بدنصیب ہے وہ شخص کہ ایک مجرمانہ کام کر کے ساری عمر کی نیکیاں برباد کر دیوے اور یا درکھو کہ اگر کوئی میرے لئے کسی قسم کا خدائے تعالیٰ پر افترا کرے گا اور کوئی خواب یا کوئی الہام یا کشف میرے خوش کرنے کیلئے مشہور کر دے گا تو میں اس کو کتوں سے بدتر اور سوروں سے ناپاک تر سمجھتا ہوں اور دونوں جہانوں میں اس سے بیزار ہوں کیونکہ اس نے ایک ذلیل خلق کیلئے اپنے عزیز مولی کو جھوٹ بول کر ناراض کر دیا۔ اگر ہم بے باک اور کذاب ہو جائیں اور خدائے تعالیٰ کے سامنے افتراؤں سے نہ ڈریں تو ہزار ہا درجے ہم سے کتے اور سورا چھے ہیں ۔ سواگر گناہ کیا ہے ۔ تو تو بہ کروتا ہلاک نہ ہو جاؤ اور یقیناً سمجھو کہ خدائے تعالیٰ مفتری کو بے سزا نہیں چھوڑے گا اور اس عاجز کا کاروبار کسی انسان کی شہادت پر موقوف نہیں۔ جس نے مجھے