نسیمِ دعوت — Page 448
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۴۶ نسیم دعوت اب اے آریہ صاحبان انصاف سے سوچو کہ قرآن شریف تو اس بات سے بھی منع کرتا ہے کہ کوئی مرد غیر عورت پر نظر ڈالے اور یا عورت غیر مرد پر نظر ڈالے یا اس کی آواز نا جائز طور پر سے مگر آپ لوگ خوشی سے اپنی بیویوں کو غیر مردوں سے ہم بستر کراتے ہیں اس کا نام نیوگ رکھتے ہیں۔ کس قدر ان دونوں تعلیموں میں فرق ہے خود سوچ لیں اور سخت افسوس ہے کہ اگر آپ پر ہمدردی کی راہ سے اعتراض کیا جائے کہ ایسا گندہ کام عورتوں سے کیوں کراتے ہو تو آپ طلاق کا مسئلہ پیش کر دیتے ہیں اور نہیں جانتے کہ طلاق کی ضرورتیں تو تمام دنیا میں مشترک ہیں جس عورت سے باہمی زوجیت کا علاقہ توڑ دیا گیا وہ تو گویا طلاق دہندہ کے (۷۸) حساب میں مرگئی اگر آپ لوگ صرف اس حد تک رہتے کہ ضرورتوں کے وقتوں میں آپ لوگ اپنی ان عورتوں کو طلاق دیتے جو آپ لوگوں کی نافرمانی یا نا موافق یا بد چلن ہوتیں یا دشمن جانی ہوتیں تو کوئی بھی آپ پر اعتراض نہ کرتا کیونکہ عورت مرد کا جوڑ تقومی طہارت کے محفوظ رکھنے کے لئے ہے اور عورت مرد ایک دوسرے کے دین اور پاکیزگی کے مددگار ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے سچے دوست اور وفادار مخلص ہوتے ہیں اور جب ان میں وہ پاک تعلق باقی نہ رہے جو اصل مدعا نکاح کا ہے تو پھر بجز طلاق کے اور کیا علاج ہے جب ایک دانت میں کیڑا پڑ جائے اور درد پہنچائے تو اب وہ دانت نہیں ہے بلکہ ایک خبیث چیز ہے اس کو باہر نکالنا چاہئے تا زندگی تلخ نہ ہو۔ چوں بدندان تو کرے اوفتاد نیست آں دندان بکن اے اوستاد محمد لا در حقیقت اسلامی پاکیزگی نے ہی طلاق کی ضرورت کو محسوس کیا ہے ورنہ جو لوگ دیوثوں کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں ان کے نزدیک گوان کی عورت کچھ کرتی پھرے طلاق کی ضرورت نہیں۔ منہ