نسیمِ دعوت — Page 440
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۳۸ نسیم دعوت مثلاً دانت توڑ دے یا آنکھ پھوڑ دے تو اس کی سزا اسی قدر بدی ہے جو اس نے کی لیکن اگر تم ایسی صورت میں گناہ معاف کر دو کہ اس معافی کا کوئی نیک نتیجہ پیدا ہو اور اس سے کوئی اصلاح ہو سکے یعنی مثلاً مجرم آئندہ اس عادت سے باز آجائے تو اس صورت میں معاف کرنا ہی بہتر ہے اور اس معاف کرنے کا خدا سے اجر ملے گا۔ اب دیکھو اس آیت میں دونوں پہلو کی رعایت رکھی گئی ہے اور عفو اور انتقام کو مصلحتِ وقت سے وابستہ کر دیا گیا ہے۔ سو یہی حکیمانہ مسلک ہے جس پر نظام عالم کا چل رہا ہے رعایت محل اور وقت سے گرم اور سرد دونوں کا استعمال کرنا یہی عقلمندی ہے جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ ہم ایک ہی قسم کی غذا پر ہمیشہ زور نہیں ڈال سکتے بلکہ حسب موقعہ گرم اور سر د غذا ئیں بدلتے رہتے ہیں۔ اور جاڑے اور گرمی کے وقتوں میں کپڑے بھی مناسب حال بدلتے رہتے ہیں۔ پس اسی طرح ہماری اخلاقی حالت بھی حسب موقع تبدیلی کو چاہتی ہے۔ ایک وقت رعب دکھلانے کا مقام ہوتا ہے وہاں نرمی اور درگزر سے کام بگڑتا ہے اور دوسرے وقت نرمی اور تواضع کا موقع ہوتا ہے اور وہاں رعب دکھلا نا سفلہ پن سمجھا جاتا ہے۔ غرض ہر ایک وقت اور ہر ایک مقام ایک بات کو چاہتا ہے۔ پس جو شخص رعایت مصالح اوقات نہیں کرتا وہ حیوان ہے نہ انسان اور وہ وحشی ہے نہ مہذب ۔ اب ہم آریہ مذہب میں کلام کرتے ہیں کہ اس میں انسانی پاکیزگی اور انسانی نیک چلنی کے لئے کیا تعلیم ہے ۔ پس واضح ہو کہ آریہ سماج کے اصولوں میں سے نہایت ا قبیح اور قابل شرم نیوگ کا مسئلہ ہے جس کو پنڈت دیا نند صاحب نے بڑی جرات کے ساتھ اپنی کتاب ستیارتھ پر کاش میں درج کیا ہے اور وید کی قابل فخر تعلیم اس کو ٹھہرایا ہے اور اگر وہ اس مسئلہ کو صرف بیوہ عورتوں تک محدود رکھتے ۔ تب بھی ہمیں کچھ غرض نہیں تھی کہ ہم اس میں کلام کرتے مگر انہوں نے تو اس اصول ، انسانی فطرت کے دشمن کو