نسیمِ دعوت — Page 363
وہ خدا جس نے تمام رُوحیں اور ذرہ ذرہ عالم علوی اور سفلی کا پیدا کیا اُسی نے اپنے فضل و کرم سے اِس رسالہ کے مضمون ہمارے دل میں پیدا کئے۔اور اس کا نام ہے نسیمِ دعوت نام اس کا نسیمِ دعوت ہے آریوں کے لئے یہ رحمت ہے دِلِ بیمار کا یہ درماں ہے طالبوں کا یہ یارِ خلوت ہے کفر کے زہر کو یہ ہے تریاق ہر ورق اس کا جامِ صحت ہے غور کر کے اسے پڑھو پیارو یہ خدا کے لئے نصیحت ہے خاکساری سے ہم نے لکھا ہے نہ تو سختی نہ کوئی شدّت ہے قوم سے مت ڈرو خدا سے ڈرو آخر اس کی طرف ہی رحلت ہے سخت دل کیسے ہو گئے ہیں لوگ سر پہ طاعون ہے پھر بھی غفلت ہے ایک دنیا ہے مر چکی اب تک پھر بھی توبہ نہیں یہ حالت ہے مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں باہتمام حکیم فضل الدین صاحب بھیروی بتاریخ ۲۸؍ فروری ۱۹۰۳ء چھپ کر شائع ہوا