نجم الہدیٰ — Page 73
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۷۳ نجم الهدى إلى أن يـريـن هـوى التنصر علی یہاں تک کہ ان پر بھی نصرانیت کی خواہش غالب قلوبهم، ويسفى هواء الطمع نور آجاتی ہے اور طمع کی ہوا ان کے دلوں کے نور کو لبوبهم، فيُوَكِّنُون نفوسهم على اڑا کر لے جاتی ہے ۔ پس مرتد ہونا دل میں ٹھان الارتداد ويضربون عليه جروتهم لیتے ہیں اور دل کو اس پر بوجہ خباثت مواد پختہ کر لخبث المواد ، ثم يرتدون قائلین لیتے ہیں پھر یہ کہتے ہوئے مرتد ہو جاتے ہیں کہ بأنهم كانوا طلاب الحق والسداد۔ وہ سچائی کے متلاشی تھے اور اس بد مذہبی کی گرم والأصل في ذالك أن أكثر الناس بازاری کا اصل سبب یہ ہے کہ اکثر لوگ اس زمانہ في هذا الزمان قد تمايلوا على الدنیا میں دنیا کی طرف جھک گئے ہیں اور خد اتعالیٰ کا وقلت معرفة الله الديَّان، وقلَّ خوفُهُ خوف کم ہو گیا اور دل میں اس کی محبت باقی نہ ولم تبق محبته في الجنان۔ فلما رأوا رہی۔ پس جب کہ ان لوگوں نے دنیا کی زینت کو زخرف الدنيا في أيدى القسوس پادریوں کے ہاتھ میں دیکھا تو اپنے دلوں کی مالوا إليهم برغبة النفوس، فلأجل رغبت سے ان کی طرف مائل ہو گئے سو اسی لئے ذالك يدخلون فى ظلماتهم أفواجًا، ہزار ہا لوگ ان کی تاریکی میں داخل ہو رہے ہیں ہوائی تنتصر در دل انها جا گیرد و با د آز نور خر دا نهارا ر باید ۔ آخر بر ارتداد آماده شوند و بسبب محبت ماده دل را براں نیت استوار کنند و باز چوں مرتد شوند - گویند ما طالبان راستی بودیم ۔ اصل این فساد آنکه اکثری در این زمانہ ہمہ تن روی بدنیا شده وخوف خدا و شناخت وی نمانده و محبت وی از دلها دور شدہ ۔ پس ہرگاہ امثال ایں کساں زینت دنیا در دست کشیشان دیدند با هزار جان بسوئی انہا دویدند ۔ ازیں جهت است که فوج فوج مردم در اندرون تاریکی انہا جائے می جویند و پشت