نجم الہدیٰ — Page 28
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۸ نجم الهدى المواسين۔ وطالما سلک فی سکک پاس آیا اور ایک مدت تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے اور رڈ شدہ انسان کی طرح مکہ کی گلیوں مكة كوحيـد طــريـد، وتصدّى بقوة | النبوة لكل عذاب شديد، وكان يُقبل عـلـى الله كل ليلة، ويسأل الله انفتا تاح میں پھرتے رہے اور قوت نبوت سے ہر ایک عذاب کا مقابلہ کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت تھی کہ رات کو اٹھ کر خدا تعالی کی عيونهم ونزول فضل ورحمة حتى | طرف توجہ کرتے اور خدا تعالیٰ سے ان کی بینائی استجيب الدعوات، وضاع مسکھا اور فضل اور رحمت چاہتے ۔ یہاں تک کہ وتوالى النفحات، ونزل أمر مقلب دعائیں قبول کی گئیں اور ان کی کستوری کی خوشبو القلوب، وأوتوا قوة من معطى الحب | پھیلی اور خوشبوئیں پے در پے پھیلنی شروع ہوئیں اور دلوں کے بدلنے والے کا حکم نازل وزارع الحبوب، فبدلـــت الأرض ہوا اور اُس ذات سے اُن کو قوت عطا ہوئی جو غير الأرض بحكم حضرة الكبرياء محبت کو عطا کرتا اور دانوں کو اگاتا ہے۔ سو حکم الہی وجذبت النفوس إلى الداعى سے زمین بدلائی گئی اور آواز دینے والے المبارك وسمع نداءه قلوب با برکت کی طرف دل کھینچے گئے اور ہر ایک رشید السعداء ، وأفضى إلى مقتله كل رشید اپنے قتل گاہ کی طرف صدق اور وفا سے و تا زمانی دراز در کوچه بائی مکہ چون شخصے بے یارو یاوری رانده شده گردش می کرد و با تاب و توان نبوت ہر رنجی سخت را بر خود آسان میگرفت و شب را رو بخدا می آورد و از وی بزاری و گریه میخواست که دیده انها را بکشاید و در فضل و رحمت بر روئی آنها باز نماید - تا آنکہ نیاز و گدازش پذیرفته شد و بوئی مشک آسایش و میدن و بمغر جانها پیاپی رسیدن گرفت و از طرف گرداننده دلها فرمان نازل شد و بخشنده مهر و محبت و نشاننده دانه با توانائی بادشان بخشید ۔ پس باذن الہی انقلاب شگرفی پیدا و آن زمین بز مینی دیگر عوض شد - دلها بسوئی آواز دہندہ فرخنده پی کشیده شده و همه نیک نهادان فرخ نژاد از صدق و وفا بسوئی