نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 18 of 550

نجم الہدیٰ — Page 18

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۸ وما نبع في زمان ملامح السراب من | عين في سربي، بإذن مولى مُربّى۔ نجم الهدى مجھے کوملی ہے۔ اور بیان اس چشمہ کا ہے جو سراب کی چمک کے زمانہ میں میرے پروردگار کے اذن سے میرے دل میں سے پھوٹا اور میں نے وشرعتها يوم الخميس وختمتها بكرة اس کو جمعرات کے دن شروع کر کے جمعہ کی صبح عروبة من غير أن أكابد الصعوبة۔ پورا کر دیا بغیر اس کے جو مجھ کو کوئی تکلیف پہنچی اور میں نے اس رسالہ کو حجت کے پوری کرنے وإني ألفت هذه الرسالة إتماما للحجّة کیلئے تالیف کیا ہے۔ اور اس امت کے غافلوں وبادرت إليهـا شـفقة على الغافلین من کی ہمدردی کے لئے میں نے جلدی سے یہ کام هذه الأمة، ومثلتُ تحننا على الضعفاء کیا اور میں خادموں کی طرح اس کام کیلئے اسلامی جماعت کے کمزوروں کے لئے کھڑا من هذه العصبة، وإني أرى في دعوتی ہوا۔ کیونکہ میری دعوت کے قبول کرنے میں صلاح الرجال منهم والنسوة، ولو ان کے زن ومرد کی بھلائی ہے۔ اگر چہ اپنی عبادت اور زہد کے ساتھ رابعہ وقت ہوں ۔ اور كانت رابعة بنسكها والعفّة۔ وعوّضتها یہ ان تحریروں کا بدل ہے جو ان دنوں میں مخالفوں عما أشاع المخالفون في هذه الأيام، کی طرف سے نکلیں ۔ اور اس میں میں نے عمدہ وأودعتها من نكات المعارف و دقائق | عمده ملت اسلامی کے نکتے اور باریک باتیں صحبت از ان چشمه دارد که در زمان سراب نشان باذن پروردگار جهان و جهانیان از تگ دل من در جوش آمده و روز پنجشنبه شروع دران کردم و پگاه روز آدینه با نجام رسانیدم و در این کار پیچ گونه زحمتی پیش من نیامد - واین رساله را جهت اتمام حجته تالیف دادم و شفقت و رحمت بر ناداناں ایس امت رگ جانم را بحرکت آورد تا در این امر با گام زودی رفتار نمودم از کمال رافت چون شاگردان و نوکران جهت ہمدردی نا توانانِ ملت بر پا استادم چه بهبود مردان و زنان البته بسته به قبول دعوت من است اگر چه کسی از قرار زہد و عبادت رابعہ وقت ہم باشد و این رساله در ازائی آن نوشته ها می باشد که مخالفان امروز روزمیر روئی کار آورده اند ۔ من در درج این رساله در ہائی شاہوار نکات اسلام ولالی مکنونه معارف و دقائق