نجم الہدیٰ — Page 155
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۵۵ راز حقیقت سامنے ہلاک کیا۔ ہاں خدا تعالیٰ کی اُس قدیم سنت کے موافق کہ کوئی اولوالعزم نبی ایسا (۳) نہیں گزرا جس نے قوم کی ایذا کی وجہ سے ہجرت نہ کی ہو ۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے بھی تین برس کی تبلیغ کے بعد صلیبی فتنہ سے نجات پا کر ہندوستان کی طرف ہجرت کی اور یہودیوں کی دوسری قوموں کو جو بابل کے تفرقہ کے زمانہ سے ہندوستان اور کشمیر اور تبت میں آئے ہوئے تھے خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچا کر آخر کار خاک کشمیر جنت نظیر میں انتقال فرمایا اور سری نگر خان یار کے محلہ میں باعزاز تمام دفن کئے گئے ۔ آپ کی قبر بہت مشہور ہے۔ يُزَارُ ويُتَبَر به ایسا ہی خدا تعالیٰ نے ہمارے سید و مولی نبی آخرالزمان کو جو سید المتقین تھے انواع اقسام کی تائیدات سے مظفر اور منصور کیا گواوائل میں حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی کی طرح داغ ہجرت آپ کے بھی نصیب ہوا مگر وہی ہجرت فتح اور نصرت کے مبادی اپنے اندر رکھتی تھی ۔ سواے دوستو ! یقیناً سمجھو کہ متقی کبھی برباد نہیں کیا جاتا جب دو فریق آپس میں دشمنی کرتے ہیں اور خصومت کو انتہا تک پہنچاتے ہیں تو وہ فریق جو خدا تعالیٰ کی نظر میں متقی اور پر ہیز گار ہوتا ہے آسمان سے اس کے لئے مدد نازل ہوتی ہے اور اس طرح پر آسمانی فیصلہ سے مذہبی جھگڑے انفصال پا جاتے ہیں۔ دیکھو ہمارے سید ومولی نبینا محمد بقیه حاشیه لیکن تمام یہود نصاری کے اتفاق سے صلیب کا واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب کہ حضرت مدوح کی عمر صرف تینتیس برس کی تھی۔ اس دلیل سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے صلیب سے بفضلہ تعالیٰ نجات پا کر باقی عمر سیاحت میں گزاری تھی۔ احادیث صحیحہ سے یہ ثبوت بھی ملتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نبی سیاح تھے۔ پس اگر وہ صلیب کے واقعہ پر مع جسم آسمان پر چلے گئے تھے تو سیاحت کس زمانہ میں کی۔ حالانکہ اہل لغت بھی مسیح کے لفظ کی ایک وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ لفظ سح سے نکلا ہے اور مسح سیاحت کو کہتے ہیں۔ ماسوا اس کے یہ عقیدہ کہ خدا نے یہودیوں سے بچانے کے لئے حضرت عیسی کو دوسرے