مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 134 of 566

مواہب الرحمٰن — Page 134

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۳۴ اعجاز احمدی ضمیمه نزول ال<mark>مسیح</mark> ایک شریر یہودی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک بیگا نہ عورت پر آپ عاشق ہو گئے تھے لیکن جو بات دشمن کے منہ سے نکلے وہ قابل اعتبار نہیں ۔ آپ خدا کے مقبول اور پیارے تھے۔ خبیث ہیں وہ لوگ جو آپ پر یہ تہمتیں لگاتے ہیں۔ ہاں آپ نے <mark>اجتہاد</mark>ی <mark>غلط</mark>ی سے داؤد کے تخت کی تمنا کی تھی مگر وہ تمنا پوری نہ ہوئی اور مطابق مثل مشہور کہ بن مانگے موتی ملیں مانگے ملے نہ بھیک ۔ آپ تو داؤد کے تخت سے محروم رہے مگر وہ برگزیدہ خدا سید الرسل جس نے دنیا کی بادشاہت سے منہ پھیر کر کہا تھا کہ الْفَقْرُ فَخْرِی یعنی نقر میر افخر ہے اُس کو خدا نے بادشاہت دے دی۔ اُس نے کہا تھا کہ میں ایک دن فاقہ چاہتا ہوں اور ایک دن روٹی مگر خدا نے اُس کو فقر و فاقہ سے بچایا۔ یہ خاص فضل ہے۔ <mark>حضرت</mark> <mark>مسیح</mark> کے <mark>اجتہاد</mark> جو اکثر <mark>غلط</mark> نکلے اس کا سبب شاید یہ ہوگا کہ اوائل میں جو آپ کے ارادے تھے وہ پورے نہ ہو سکے ۔ غرض ان باتوں سے نبوت میں کچھ خلل نہیں آیا ۔ نبی کے ساتھ صد ہا انوار ہوتے ہیں جن سے وہ شناخت کیا جاتا ہے ۔ اور جن سے اُس کے دعوی کی سچائی کھلتی ہے ۔ پس اگر کوئی <mark>اجتہاد</mark> <mark>غلط</mark> ہو تو اصل دعوی میں کچھ فرق نہیں آتا مثلاً آنکھ اگر دور کے فاصلہ سے انسان کو بیل تصور کرے تو یہ نہیں کہہ سکتے کہ آنکھ کا وجود بے فائدہ ہے یا اُس کی رویت قابل اعتبار نہیں ۔ پس نبی کے لئے اُس کے دعوئی اور تعلیم کی ایسی مثال ہے جیسا کہ قریب سے آنکھ چیزوں کو دیکھتی ہے اور اُن میں <mark>غلط</mark>ی نہیں کرتی ۔ اور بعض <mark>اجتہاد</mark>ی امور میں <mark>غلط</mark>ی کی ایسی مثال ہے جیسے دور دراز کی چیزوں کو آنکھ دیکھتی ہے تو کبھی ان کی تشخیص میں <mark>غلط</mark>ی کر جاتی ہے۔ اسی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ <mark>حضرت</mark> عیسی کو جو یہودیوں کی بھلائی کے لئے اپنی بادشاہت کا خیال تھا ۔ اس لئے ہمو جب آیت کریمہ إِلَّا إِذَا تَمَنِّى أَلْقَى الشَّيْطَنُ في أمنيته " شیطان نے آپ کو دھوکا دیا اور داؤد کے تخت کا لالچ دل میں ڈال دیا یا نوٹ عیسائی بھی ایسی بکو اس آن<mark>حضرت</mark> صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کیا کرتے ہیں اور <mark>حضرت</mark> موسی پر بھی ایک مرتبہ ایسا ہی الزام لگایا گیا تھا۔ منہ الحج : ۵۳ ۲۵