منن الرحمٰن — Page 243
۲۴۳ روحانی خزائن جلد ۹ النقطع عرق الخصومات۔ و لعل العدا يتفكرون في حللها۔ أو يأتون بألسنها من 99 تا ہم جھگڑوں کی جڑ کاٹ دیں تا کہ ہمارے مخالف ان عبارتوں کے پیرایوں میں غور کریں یا اگر بچے ہیں تو مثلها ان كانوا صادقين۔ وقد سمعتم ان مفردا تها تواضخ نقوش تقسيم الفطرة۔ اپنی اپنی زبانوں میں ان عبارتوں کی نظیر پیش کریں۔ اور تم سن چکے ہو کہ عربی کے مفردات فطرتی تقسیم کے وتعطى كلما أعطى عند التقاسيم الطبعية۔ و تصنع كل لفظ في المواضع التي دوش بدوش چلے جاتے ہیں اور جو کچھ طبعی تقسیم نے دیا وہ سب مال دیتے ہیں اور ہر ایک لفظ کو ایسے موقعہ پر طلبتها الضرورة الداعية او اقتضتها الصفات الإلهية ولا تمشى كالتائهين۔ رکھتے ہیں جس کو پیش آمدہ ضرورت نے طلب کیا ہے یا صفات الہیہ نے اس کو چاہا ہے ۔ اور آوارہ گر دلوگوں و تراى فروق الكلمات كما ارت فروقها دواعى الضرورات وتظهر في نظام | کی طرح نہیں چلتے اور کلمات کے فرقوں کو وہ ایسے دکھاتے ہیں جیسا کہ ضرورتوں کے وجوہ نے ان کو دکھایا ہے المفردات كلما اظهر القسّام فى مرأة الواقعات۔ فكذلك نطلب من اور مفردات کے نظام میں وہ تمام باتیں ظاہر کرتے ہیں جو قسام ازل نے واقعات کے آئینہ میں ظاہر کی ہیں المخاصمين۔ وما قلنا هذا القول كصفير اللاعبين بل ارينا كلها كالمحققين۔ پس انہیں باتوں کی نظیر ہم مخالفوں سے مانگتے ہیں اور ہم نے اس قول کو کھیلنے والوں کی سیٹی کی طرح نہیں کہا بلکہ واثبتنا ان العربية قد وقعت كرجل رحيب الباع خصيب الرباع متناسبة | ہم نے اس کو محققوں کی طرح دکھلایا ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ عربی اس مرد کی طرح ہے جو فراخ دست اور الاعضاء موزون الطباع۔ مطّلعة على ذات صدر الفطرة۔ وحامل فوائدها کثیر المال ہوا ور نیز متنا سب الاعضاء اور موزوں الطبع ہو۔ عربی زبان فطرت کے اسرار پر مطلع ہے اور اس کے یکتا كالمطيّة فان كنتم من خيل هذا الميدان۔ او للسانكم كمثلها يدان۔ فاتوا بها | موتیوں کے لئے یہ سواری کی طرح ہے پس اگر تم اس میدان کے سوار ہو یا تمہاری زبان کو اس کے موافق طاقت يا معشر اهل العدوان وحزب المتعصبين۔ و ان لم تفعلوا و لن تفعلوا فاتقوا الله الذى ہے پس اے ظالم لوگو اپنی زبانوں کو پیش کرو اور اگر تم نہ کر سکو اور ہرگز نہ کر سکو گے سو اس خدا سے ڈرو