منن الرحمٰن — Page 198
۱۹۸ روحانی خزائن جلد ۹ منن الرح هو الذي خلق الانسان۔ و أتم الخلق و زان۔ واكمل الاحسان وہی ہے جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی پیدائش کو پورا کیا اور زینت بخشی اور اپنے احسان کو کمال تک فكيف يظن انه ما علم البيان اتظن انه قدر على خلق البشر ۔ و ما پہنچایا۔ پس ایسے محسن کی نسبت کیونکر گمان کیا جائے کہ اس نے انسان کو بولنا نہ سکھایا کیا تیرا یہ قلن ہے کہ وہ قدر على الانطاق و ازالة الحصر اوكان من الغافلين۔ افانت انسان کے پیدا کرنے پر تو قادر ہوا لیکن اس کے بلانے اور اس کی زبان کھولنے پر قادر نہ ہو سکا یا وہ غافلوں عجب ههنا من قدرة رب العالمين و ترى انه قوی متین وانه | میں سے تھا کیا تو اس جگہ رب العالمین کی قدرت سے تعجب کرے گا اور تو دیکھتا ہے کہ وہ زبر دست قوت والا خالق الجـوهـر والعرض و منور السموات والارض ۔ ومجيب | ہے اور وہ جو ہرا اور عرض کو پیدا کرنے والا ہے اور زمین اور آسمان کو روشن کرنے والا ہے اور دعاؤں کو قبول دعوة الداعين فهل لك ان تتوب اليه و تميل۔ وتتحامى القال کرنے والا ہے ۔ پس کیا تو اس بات کی طرف رغبت رکھتا ہے کہ اس کی طرف رجوع کرے اور قیل وقال کو والقيل۔ والله يحب الصالحين۔ چھوڑ دے اور خدا نیک بندوں سے محبت رکھتا ہے۔ فلما ثبت ان ربنا هو نور كل شئ من الاشياء۔ ومنير ما في اور جبکہ ثابت ہوا کہ ہما را خدا هر یک چیز کا نور اور زمین اور آسمان کا روشن الارض والسماء۔ ثبت انه المفيض من جميع الانحاء۔ و خالق الرقيع کرنے والا ہے تو ثابت ہو گیا کہ وہی ہر یک طرح سے مبدء جمیع فیوض ہے اور وہی زمین والغبراء۔ و هو احسن الخالقين۔ و انه اعطى العينين و خلق اللسان | و آسمان کا خالق اور احسن الخالقین ہے اس نے دو آنکھیں دیں اور زبان اور ہونٹ والشفتين۔ وهدى الرضيع الى النجدين وما غادر من كمال مطلوب دیئے اور بچہ کو پتانوں کی طرف ہدایت دی اور کوئی ایسا کمال انسانی اٹھا نہ رکھا