منن الرحمٰن — Page 173
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۷۳ تأتیک ایاتی فتعرف وجهها فاصبر و لا تترک طریق حیاء ان المقرب لا يضاع بفتنة والاجـر يـكتـب عـنـد كل بلاء ياربنا افتح بيتنا بكرامة يا من يرى قلبى و لب لحائِي يا من ارى ابوابه مفتوحة للسائلين فلا ترد دعائی المقدمة في ذكر اسباب تالیف الکتاب و بيان ما عُلّمنا من الله الوهاب اعلم حفظك الله القيوم و ايدك في خير تروم۔ ان هذا الزمان هو اے پڑھنے والے اس کتاب کے خدائے قیوم تجھے غلطیوں سے نگاہ رکھے اور ہر یک نیک مقصد میں تیرا مددگار ہو جاتی کہ یہ زمانہ نہایت الزمان الظلـوم كـانـه الـيـوم الـمـسـمـوم۔ او البلاد الجروم۔ ضاعت فيه ستم گار زمانہ ہے گویا وہ ایک نہایت گرم دن ہے یا ایسا ملک ہے جس میں سخت گرمی پڑتی ہے۔ اس زمانہ میں علم اور معارف المعارف والعلوم۔ وشاعت البدعات والرسوم۔ وخلصت للدنيا ضائع ہو گئے اور رسوم اور بدعات پھیل گئے۔ اور سارے غم اور ساری ہمتیں دنیا کے لئے الهمم والهموم و حمئت بشار الطبائع ونزح الجموم۔ وحسبوا خالص ہو گئیں اور طبیعتوں کے کوئلوں میں سیاومٹی پڑ گئی اور بہت پانی والا کنواں خشک ہو گیا۔ اور اس زمانہ کے لوگوں الزقـوم كـــانــــه الــزقــوم۔ و قـل الـمـؤمـنـون وكثـر الـلـنـام نے درخت زقوم کو ایسا سمجھ لیا کہ گویا وہ کھجور میں اور مکھن ہے۔ اور مومن کم ہو گئے اور لٹیم جھگڑنے والے زیادہ ہو گئے حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” ہو جائے “ہونا چاہیے۔(ناشر)