منن الرحمٰن — Page 122
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۲۲ انوار الاسلام ولد و ولدها ثم عجوا الى الله وانابوا فقبل منهم و أخر عنهم العذاب فقال يونس عند ذلك لا ارجع اليهم كذابا و مضی علی وجہ ۔ یعنی ابن جریر اور (۱۵) ابن ابی حاتم نے ابن عباس سے یہ حدیث لکھی ہے کہ خدا نے یونس نبی کو ایک بستی کی طرف مبعوث کیا پس انہوں نے اس کی دعوت کو نہ مانا اور رک گئے سو جبکہ انہوں نے ایسا کیا تو خدا تعالیٰ نے یونس کی طرف وحی بھیجی کہ میں فلاں دن میں ان پر عذاب نازل کروں گا سو یونس نے اس قوم کو اچھی طرح سمجھا دیا کہ فلاں تاریخ کو تم پر عذاب نازل ہوگا اور ان میں سے نکل گیا پس جبکہ وہ رات آئی جس کی صبح کو عذاب نازل ہونا تھا سو قوم نے عذاب کے آثار دیکھے سو وہ ڈر گئے اور اپنی ہستی سے ایک وسیع میدان میں نکل آئے جو انہیں کی زمین کی حدود میں تھا اور ہر یک جانور کو اس کے بچے سے علیحدہ کر دیا یعنی رحیم خدا کے رجوع دلانے کے لئے یہ حیلہ سازی کی جو شیر خوار بچوں کو خواہ وہ انسانوں کے تھے یا حیوانوں کے ان کی ماؤں سے علیحدہ پھینک دیا اور اس مفارقت سے ایک قیامت کا شور اس میدان میں برپا ہوا ماؤں کو ان کے شیر خوار بچوں کو جنگل میں دور ڈالنے سے سخت رقت طاری ہوئی اور اس طرف بچوں نے بھی اپنی پیاری ماؤں سے علیحدہ ہو کر اور اپنے تئیں اکیلے پاکر درد ناک شور مچایا اور اس کارروائی کے کرتے ہی سب لوگوں کے دل درد سے بھر گئے اور نعرے مار مار کر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف تضرع کیا اور اس سے معافی چاہی تب رحیم خدا نے جس کی رحمت سبقت لے گئی ہے یہ حال زاران کا دیکھ کر ان کو معاف کر دیا اور ادھر حضرت یونس عذاب کے منتظر تھے اور دیکھتے تھے کہ آج اس بستی اور اس کے لوگوں کی کیا خبر آتی ہے یہاں تک کہ ایک رہ گزر مسافران کے پاس پہنچ گیا انہوں نے پوچھا کہ اس بستی کا کیا حال ہے اس نے کہا کہ انہوں نے یہ کارروائی کی کہ اپنی زمین کے ایک