منن الرحمٰن — Page 117
روحانی خزائن جلد ۹ 112 انوار الاسلام اور وقتوں اور میعادوں کا ٹلنا تو ایک ایسی سنت اللہ ہے جس سے بجز ایک سخت جاہل کے اور کوئی انکار نہیں کر سکتا ۔ دیکھو حضرت موسیٰ کو نزول توریت کے لئے تمہیں رات کا وعدہ دیا تھا اور کوئی ساتھ شرط نہ تھی مگر وہ وعدہ قائم نہ رہا اور اس پر دس دن اور بڑھائے گئے جس سے بنی اسرائیل گوسالہ پرستی کے فتنہ میں پڑے پس جبکہ اس نص قطعی سے ثابت ہے کہ خدا تعالیٰ ایسے وعدہ کی تاریخ کو بھی ٹال دیتا ہے جس کے ساتھ کسی شرط کی تصریح نہیں کی گئی تھی تو وعید کی تاریخ میں عند الرجوع تاخیر ڈالنا خود کرم میں داخل ہے اور ہم لکھ چکے ہیں کہ اگر تاریخ عذاب کسی کے تو بہ استغفار سے مل جائے تو اس کا نام تخلف وعدہ نہیں کیونکہ بڑا وعدہ سنت اللہ ہے جبکہ سنت اللہ پوری ہوئی تو وہ ایفا ء وعدہ ہوا نہ تخلف وعد قولہ عذاب موت اگر استغفار سے مل جاتا ہے تو اس کی بقیه حاشیه : کا ہرگز یہ منشا نہیں ہوگا کہ آنحضرت صلعم و عدہ کو فی الحقیقت وعدہ سمجھ کر پھر جو از عدم ایفائے وعدہ کے قائل تھے کیونکہ تخلف وعدہ ایک نقص ہے جو خدا تعالیٰ پر جائز نہیں بلکہ آنحضرت صلعم یہ سمجھتے ہوں گے کہ خروج دجال اور ظہور مہدی وغیرہ یہ سب مواعید تو برحق ہیں لیکن ممکن ہے کہ ان کے ظہور کے لئے شرائط ہوں جن کے عدم سے یہ بھی حیز عدم میں رہیں اور یا ممکن ہے کہ ایسے طور سے یہ وعدے ظہور میں آجائیں کہ ان پر اطلاع بھی نہ ہو کیونکہ سنت اللہ میں پیشگوئیوں کے ظہور کے لئے کوئی ایک طور اور طریق مقرر نہیں ہے کبھی اپنے ظاہری معنوں پر پوری ہوتی ہیں اور کبھی تاویلی طور پر ۔ ہاں آنحضرت صلم کے اس طریق اتقاء سے یہ ثابت ہو گیا کہ اس زمانہ کے علماء کس قدر اس تقومی کے طریق سے دور جا پڑے ہیں ۔ منہ حاشیه: اگر بیچارے شیخ بٹالوی کے دل کو دھڑ کا پکڑتا ہو کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ إِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ المیعاد اور تاریخ مقررہ کی کمی بیشی کرنا تخلف وعدہ کی ایک جز ہے تو اسے یا درکھنا چاہیے کہ وعدہ سے مراد وہ امر ہے جو علم الہی میں بطور وعدہ قرار پا چکا ہے نہ وہ امر جو انسان اپنے خیال کے مطابق اس کو ال عمران: ۱۰