معیارالمذاہب — Page 481
روحانی خزائن جلد ۹ معیار المذاہب (۲) دوسری صورت اس قابل رحم بیٹے کے مصلوب ہونے کی یہ ہے کہ اس کے سولی ملنے کی یہ علت غائی قرار دی جائے کہ اس کی سولی پر ایمان لانے والے ہر یک قسم کے گناہ اور بدکاریوں سے بچ جائیں گے اور ان کے نفسانی جذبات ظہور میں نہ آنے پائیں گے مگر افسوس کہ جیسا کہ پہلی صورت خلاف تہذیب اور بدیہی البطلان ثابت ہوئی تھی ایسا ہی یہ صورت بھی کھلے کھلے طور پر باطل ہی ثابت ہوئی ہے کیونکہ اگر فرض کیا جائے کہ یسوع کا کفارہ ماننے میں ایک ایسی خاصیت ہے کہ اس پر سچا ایمان لانے والا فرشتہ سیرت بن جاتا ہے اور پھر بعد ازاں اس کے دل میں گناہ کا خیال ہی نہیں آتا تو تمام گذشتہ نبیوں کی نسبت کہنا پڑے گا کہ وہ یسوع کی سولی اور کفارہ پر سچا ایمان نہیں لائے تھے کیونکہ انہوں نے تو بقول عیسائیاں بدکاریوں میں حد ہی کر دی ۔ کسی نے ان میں سے بت پرستی کی اور کسی نے ناحق کا خون کیا اور کسی نے اپنی بیٹیوں سے بدکاری کی اور بالخصوص یسوع کے دادا صاحب داؤد نے تو سارے بُرے کام کئے ایک بے گناہ کو اپنی شہوت رانی کے لئے فریب سے قتل کرایا اور دلالہ عورتوں کو بھیج کر اس کی جورو کو منگوایا اور اس کو شراب پلائی اور اس سے زنا کیا اور بہت سا مال حرام کاری میں ضائع کیا اور تمام عمر سنولیک بیوی رکھی اور یہ حرکت بھی بقول عیسائیاں زنا میں داخل تھی اور عجیب تر یہ کہ روح القدس بھی ہر روز اس پر نازل ہوتا تھا اور زبور بڑی سرگرمی سے اتر رہی تھی مگر بقیہ نوٹ پہنچایا بلکہ راستبازوں کے سامنے اس کو شرمندہ کیا بہتر تھا کہ اس کی روح کو ثواب پہنچانے کے لئے صدقہ دیتے اس کے لئے دعائیں کرتے تا اس کی عاقبت کے لئے بھلائی ہوتی ۔ مشت خاک کو خدا بنانے میں کیا حاصل تھا۔ منہ