معیارالمذاہب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 463 of 581

معیارالمذاہب — Page 463

روحانی خزائن جلد ۹ ۴۶۱ معیار المذاہب دین اسلام کی تائید کے لئے وہ وعظ کر سکتے ہیں جس کا خاص مکہ معظمہ میں میسر آنا ہمارے لئے غیر ممکن ہے اور اس گورنمنٹ نے نہ صرف اشاعت کتب اور اشاعت مذہب میں ہر یک قوم کو آزادی دی بلکہ خود بھی ہر ایک فرقہ کو بذریعہ اشاعت علوم وفنون کے مدد دی اور تعلیم اور تربیت سے ایک دنیا کی آنکھیں کھول دیں ۔ پس اگر چہ اس محسن گورنمنٹ کا یہ احسان بھی کچھ تھوڑا نہیں کہ وہ ہمارے مال اور آبرو اور خون کی جہاں تک طاقت ہے سچے دل سے محافظت کر رہی ہے اور ہمیں اس آزادی سے فائدہ پہنچا رہی ہے جس کے لئے ہم سے پہلے بہتیرے نوع ۔ انسان کے بچے ہمدرد ترستے گذر گئے ۔لیکن یہ دوسرا احسان گورنمنٹ کا اس سے بھی بڑھ کر ہے کہ وہ جنگلی وحشیوں اور نام کے انسانوں کو انواع و اقسام کی تعلیم کے ذریعہ سے اہل علم و عقل بنانا چاہتی ہے ہم دیکھتے ہیں کہ اس گورنمنٹ کی متواتر کوششوں سے وہ لوگ جو قریب قریب مویشی اور چارپایوں کے تھے کچھ کچھ حصہ (۲) انسانیت اور فہم و فراست کا لے چکے ہیں اور اکثر دلوں اور دماغوں میں ایک ایسی روشنی پیدا ہوگئی ہے جو علوم کے حصول کے بعد پیدا ہوا کرتی ہے ۔ معلومات کی وسعت نے گویا یک دفعہ دنیا کو بدل دیا ہے لیکن جس طرح شیشے میں سے روشنی تو اندر گھر کے آ سکتی ہے مگر پانی نہیں آ سکتا ۔ اسی طرح علمی روشنی تو دلوں اور دماغوں میں آگئی ہے مگر ہنوز وہ مصفا پانی اخلاص اور ر و بحق ہونے کا اندر نہیں آیا جس سے روح کا پوده نشو ونما پاتا اور اچھا پھل لا تا لیکن یہ گورنمنٹ کا قصور نہیں ہے بلکہ ابھی ایسے اسباب مفقود یا قلیل الوجود ہیں جو سچی روحانیت کو جوش میں لا دیں ۔ یہ عجیب بات ہے کہ علمی ترقی سے مکر اور فریب کی بھی کچھ ترقی معلوم ہوتی ہے اور اہل حق کو