مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 40 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 40

روحانی خزائن جلد ۱۵ مسیح ہندوستان میں ۳۸ الزاموں سے بری کرتا۔ سوانجیل کی آیت مذکورہ بالا کا اسی بات کی طرف اشارہ ہے اور یہ جو کہا کہ زمین کی ساری قو میں چھاتی پیٹیں گی۔ یہ اس بات کی طرف ایما کی گئی ہے کہ وہ تمام فرقے جن پر قوم کا لفظ اطلاق پاسکتا ہے اس روز چھاتی پیٹیں گی اور جزع فزع کریں گی اور ان کا ماتم سخت ہو گا۔ اس جگہ عیسائیوں کو ذرہ توجہ سے اس آیت کو پڑھنا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ جبکہ اس آیت میں کل قوموں کے چھاتی پیٹنے کے بارے میں پیشگوئی کی گئی ہے تو اس صورت میں عیسائی اس ماتم سے کیونکر باہر رہ سکتے ہیں۔ کیا وہ قوم نہیں ہیں ۔ اور جبکہ وہ بھی اس آیت کے رو سے چھاتی پیٹنے والوں میں داخل ہیں تو پھر وہ کیوں اپنی نجات کا فکر نہیں کرتے ۔ اس آیت میں صاف طور پر بتلایا گیا ہے کہ جب مسیح کا نشان آسمان پر ظاہر ہوگا تو زمین پر جتنی قومیں ہیں وہ چھاتی پیٹیں گی ۔ سو ایسا شخص مسیح کو جھٹلاتا ہے جو کہتا ہے کہ ہماری قوم چھاتی نہیں پیٹے گی ۔ ہاں وہ لوگ چھاتی پیٹنے کی پیشگوئی کا مصداق نہیں ٹھہر سکتے جن کی جماعت ابھی تھوڑی ہے اور اس لائق نہیں ہے جو اُس کو قوم کہا جائے ۔ اور وہ ہمارا فرقہ ہے بلکہ یہی ایک فرقہ ہے جو پیشگوئی کے اثر اور دلالت سے باہر ہے کیونکہ اس فرقہ کے ابھی چند آدمی ہیں جو کسی طرح قوم کا لفظ ان پر صادق نہیں آ سکتا۔ مسیح نے خدا سے الہام پا کر بتلایا کہ جب آسمان پر ایک نشان ظاہر ہوگا تو زمین کے کل وہ گروہ جو باعث اپنی کثرت کے قوم کہلانے کے مستحق ہیں چھاتی پیٹیں گے اور کوئی ان میں سے باقی نہیں رہے گا مگر وہی کم تعدا د لوگ جن پر قوم کا لفظ صادق نہیں آسکتا۔ اس پیشگوئی کے مصداق سے نہ عیسائی باہر رہ سکتے ہیں اور نہ اس زمانہ کے مسلمان اور نہ یہودی اور نہ کوئی اور مکذب۔ صرف ہماری یہ جماعت باہر ہے کیونکہ ابھی خدا نے ان کو ختم کی طرح بویا ہے۔ نبی کا کلام کسی طور سے جھوٹا نہیں ہوسکتا ۔ جبکہ کلام میں صاف یہ اشارہ ہے کہ ہر ایک قوم جو زمین پر ہے چھاتی پیٹے گی تو ان قوموں میں سے کونسی قوم باہر رہ سکتی ہے۔ مسیح نے تو اس آیت میں کسی قوم کا استثنا نہیں کیا۔ ہاں وہ جماعت بہر صورت مستثنیٰ ہے جو ابھی قوم