مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 34 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 34

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۴ مسیح ہندوستان میں ☆ ۳۲ مہلت نہ دی کیونکہ اس کا وقت آچکا تھا۔ مگر مسیح کو دعا کرنے کے لئے تمام رات مہلت دی گئی اور وہ ساری رات سجدہ میں اور قیام میں خدا کے آگے کھڑا رہا۔ کیونکہ خدا نے چاہا کہ وہ بیقراری ظاہر کرے۔ اور اس خدا سے جس کے آگے کوئی بات ان ہونی نہیں اپنی مخلصی چاہے۔ سوخدا نے اپنی قدیم سنت کے موافق اس کی دعا کو سنا۔ یہودی اس بات میں جھوٹے تھے جنہوں نے صلیب دے کر یہ طعنہ مارا کہ اس نے خدا پر توکل کیا تھا کیوں خدا نے اس کو نہ چھوڑایا کیونکہ خدا نے یہودیوں کے تمام منصوبے باطل کئے اور اپنے پیارے مسیح کو صلیب اور اس کی لعنت سے بچالیا اور یہودی نا مرادر ہے۔ اور منجملہ انجیلی شہادتوں کے جو ہم کو ملی ہیں انجیل متی کی وہ آیت ہے جو ذیل میں لکھتا ہوں ۔ بابل راستباز کے خون سے بر خیاہ کے بیٹے ذکریا کے خون تک جسے تم نے ہیکل اور قربان گاہ کے درمیان قتل کیا۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ یہ سب کچھ اس زمانہ کے لوگوں پر آ دے گا۔ دیکھو متی باب ۲۴ آیت ۳۶٫۳۵ ۔ اب ان آیات پر اگر نظر غور کرو تو واضح ہوگا کہ ان میں حضرت مسیح علیہ السلام نے صاف طور پر کہ دیا ہے کہ یہودیوں نے جس قدر نبیوں کے خون کئے ان کا سلسلہ ذکر یا نبی تک ختم ہو گیا۔ اور بعد اس کے یہودی لوگ کسی نبی کے قتل کرنے کے لئے قدرت نہیں پائیں گے۔ یہ ایک بڑی پیشگوئی ہے اور اس سے نہایت صفائی کے ساتھ یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب کے ذریعہ سے قتل نہیں ہوئے بلکہ صلیب سے بیچ کر نکل گئے اور آخر طبعی موت سے فوت ہوئے ۔ کیونکہ اگر یہ بات صحیح ہوتی کہ حضرت مسیح علیہ السلام بھی ذکریا کی طرح یہودیوں کے ہاتھ سے قتل ہونے والے تھے تو ان آیات میں حضرت مسیح علیہ السلام ضرور اپنے قتل کئے جانے کی طرف بھی اشارہ کرتے ۔ اور اگر یہ کہو کہ گو حضرت مسیح علیہ السلام بھی یہودیوں کے ہاتھ سے مارے گئے لیکن ان کا مارا جانا یہودیوں کے لئے کوئی گناہ کی بات نہیں تھی کیونکہ وہ بطور کفارہ کے سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ” باب ۲۳ “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)