مسیح ہندوستان میں — Page 99
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۹۹ مسیح ہندوستان میں اور کتاب ہسٹری آف افغانستان مصنفہ کرنیل جی بی میلسن مطبوعہ لندن ۱۸۷۸ء صفحه ۳۹ (۹۷) میں لکھا ہے کہ عبد اللہ خان ہراتی اور فرانسیسی سیاح فر ائر پانی سرولیم جونز (جو ایک بڑا متبحر عالم علوم شرقیہ گذرا ہے ) اس بات پر متفق ہیں کہ افغان قوم بنی اسرائیلی الاصل ہیں اور دس گم شدہ فرقوں کی اولاد ہیں۔ اور کتاب ہسٹری آف دی افغانس مصنفہ جی پی فرائس (فرانسیسی ) مترجمه کپتان ولیم جے سی مطبوعہ لندن ۱۸۵۸ء صفحہ میں لکھا ہے کہ شرقی مؤرخوں کی کثرت رائے یہی ہے کہ افغان قوم بنی اسرائیل کے دس فرقوں کی اولاد سے ہیں اور یہی رائے افغانوں کی اپنی ہے۔ اور یہی مؤرخ اس کتاب کے صفحہ یہ میں لکھتا ہے کہ افغانوں کے پاس اس بات کے ثبوت کے لئے ایک دلیل ہے جس کو وہ یوں پیش کرتے ہیں کہ جب نادر شاہ ہند کی فتح کے ارادہ سے پشاور پہنچا تو یوسف زئی قوم کے سرداروں نے اس کی خدمت میں ایک بائیبل عبرانی زبان میں لکھی ہوئی پیش کی اور ایسا ہی کئی دوسری چیزیں پیش کیں جو ان کے خاندانوں میں اپنے قدیم مذہب کے رسوم ادا کرنے کے لئے محفوظ چلی آتی تھیں۔ اس کیمپ کے ساتھ یہودی بھی موجود تھے جب ان کو یہ چیز میں دکھلائی گئیں تو فوراً انہوں نے ان کو پہچان لیا اور پھر یہی مؤرخ اپنی کتاب کے صفحہ چہارم کے بعد لکھتا ہے کہ عبداللہ خان ہراتی کی رائے میرے نزدیک بہت قابل اعتبار ہے جس کا خلاصہ یہ ہے: ملک طالوت ( سال کے دو بیٹے تھے ایک کا نام افغان دوسرے کا نام جالوت ۔ افغان اس قوم کا مورث اعلیٰ تھا۔ داؤد اور سلیمان کی حکومت کے بعد بنی اسرائیل میں خانہ جنگی شروع ہوگئی اور فرقے فرقے الگ الگ بن گئے ۔ بخت نصر کے زمانہ تک یہی حالت رہی۔ بخت نصر نے چڑھائی کر کے ستر ہزار یہودی قتل کئے اور شہر تباہ کیا۔ اور باقی یہودیوں کو قید کر کے بابل لے گیا۔ اس مصیبت کے بعد افغان کی اولا د خوف کے مارے جُو دِیا سے ملک عرب میں بھاگ کر جابسے اور بہت عرصہ تک یہاں آبادر ہے۔ لیکن چونکہ پانی اور زمین کی قلت تھی 1۔Col۔G۔B۔Malleson 2۔ Joseph Pierre Ferrier