مسیح ہندوستان میں — Page 96
مسیح ہندوستان میں ۹۶ روحانی خزائن جلد ۱۵ (۹۴) کیا۔ اور لفظ پہطان کی نسبت افغان مؤلف یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ ایک سریانی لفظ ہے جس کے معنی جہاز کا سگان ہے اور چونکہ نو مسلم قیس اپنی قوم کی رہنمائی کے لئے جہاز کے سگان کی طرح تھا اس لئے پہطان کا خطاب اس کو ملا ۔ اس بات کا پتہ نہیں چلتا کہ کسی زمانہ میں غور کے افغان آگے بڑھے اور علاقہ قندھار میں جو آج کل ان کا وطن ہے آباد ہوئے۔ غالباً اسلام کی پہلی صدی میں ایسا ظہور میں آیا ۔ افغانوں کا قول ہے کہ قیس نے خالد ابن ولید کی لڑکی سے نکاح کیا اور اس سے اس کے ہاں تین لڑکے پیدا ہوئے جن کا نام سرابان، پطان ، اور گرگشت ہیں۔ سرابان کے دولڑ کے تھے جن کا نام سچرج ٹین اور کرش ٹین ہیں۔ اور ان ہی کی اولا د افغان یعنی بنی اسرائیل کہلاتے ہیں ۔ ایشیا کو چک کے لوگ اور مغربی اسلامی مؤرخ افغانوں کو سلیمانی کہتے ہیں۔ اور کتاب سائیکلو پیڈیا آف انڈیا الیسٹرن اینڈ سدرن ایشیا مصنفہ ای بیلفور جلد سوم میں لکھا ہے کہ قوم یہود ایشیا کے وسط جنوب اور مشرق میں پھیلی ہوئی ہیں ۔ پہلے زمانہ میں یہ لوگ ملک چین میں بکثرت آباد تھے اور مقام یہ چو( صدر مقام ضلع شو) ان کا معبد تھا ۔ ڈاکٹر وولف جو بنی اسرائیل کے دس غائب شدہ فرقوں کی تلاش میں بہت مدت پھرتا رہا اس کی یہ رائے ہے کہ اگر افغان اولا د یعقوب میں سے ہیں تو وہ یہودا اور بن یمین قبیلوں میں سے ہیں ۔ ایک اور روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ یہودی لوگ تا تار میں جلا وطن کر کے بھیجے گئے تھے اور بخارا ۔ مرد اور خیوا کے متعلقہ علاقوں میں بڑی تعداد میں موجود تھے ۔ پرسٹر جان شہنشاہ تا تار نے ایک خط میں جو بنام الکسیس کام نی نی شہنشاہ قسطنطنیہ ارسال کیا تھا اپنے ملک تا تار کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس دریا ( آموں ) کے پار بنی اسرائیل کے دس قبیلے ہیں جو اگر چہ اپنے بادشاہ کے ماتحت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن فی الحقیقت ہماری سہو کتابت معلوم ہوتا ہے" شن سوم “ ہونا چاہیے۔ (ناشر) 1۔ The Cyclopaedia of India, Eastern and Southern Asia by Balfour 2۔Yihchu-Shu 3۔ Dr۔ Wolf۔ 4۔ Prester John۔ 5۔ Alexis Comminus