مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 78 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 78

مسیح ہندوستان میں روحانی خزائن جلد ۱۵ دل میں گذرتا ہے کہ یہ سب باتیں حضرت مسیح کی تعلیم کی نقل ہیں جبکہ وہ اس ملک ہندوستان میں تشریف لائے اور جابجا انہوں نے وعظ بھی کئے تو ان دنوں میں بدھ مذہب والوں نے ان سے ملاقات کر کے اور ان کو صاحب برکات پا کر اپنی کتابوں میں یہ باتیں درج کر لیں بلکہ ان کو بدھ قرار دے دیا کیونکہ یہ انسان کی فطرت میں داخل ہے کہ جہاں کہیں عمدہ بات پاتا ہے بہر طرح کوشش کرتا ہے کہ اس عمدہ بات کو لے لے یہاں تک کہ اگر کسی مجلس میں کوئی عمدہ نکتہ کسی کے منہ سے نکلتا ہے تو دوسرا اس کو یاد رکھتا ہے۔ تو پھر یہ بالکل قرین قیاس ہے کہ بدھ مذہب والوں نے انجیلوں کا سارا نقشہ اپنی کتابوں میں کھینچ دیا ہے مثلاً یہاں تک کہ جیسے مسیح نے چالیس روزے رکھے ویسے ہی بدھ نے بھی رکھے اور جیسا کہ مسیح شیطان سے آزمایا گیا ایسا ہی بدھ بھی آزمایا گیا اور جیسا کہ مسیح بے پدر تھا ویسا ہی بدھ بھی۔ اور جیسا کہ مسیح نے اخلاقی تعلیم بیان کی ویسا ہی بدھ نے بھی کی۔ اور جیسا کہ مسیح نے کہا کہ میں نور ہوں ویسا ہی بدھ نے بھی کہا۔ اور جیسا کہ مسیح نے اپنا نام استاد رکھا اور حواریوں کا نام شاگر د ایسا ہی بدھ نے رکھا۔ اور جیسا کہ انجیل متی باب ۱۰ آیت ۸ ۹ میں ہے کہ سونا اور روپا اور تانبا اپنے پاس مت رکھو یہی حکم بدھ نے اپنے شاگردوں کو دیا ۔ اور جیسا کہ انجیل میں مجرد رہنے کی ترغیب دی گئی ہے ایسا ہی بدھ کی تعلیم میں ترغیب ہے۔ اور جیسا کہ مسیح کو صلیب پر کھینچنے کے بعد زلزلہ آیا ایسا ہی لکھا ہے کہ بدھ کے مرنے کے بعد زلزلہ سے آیا۔ پس اس تمام مطابقت کا اصل باعث یہی ہے کہ بدھ مذہب والوں کی خوش قسمتی ۔ مسیح ہندوستان میں آیا اور ایک زمانہ دراز تک بدھ مذہب والوں میں رہا اور اس کے سوانح اور اس کی پاک تعلیم پر انہوں نے خوب اطلاع پائی ۔ لہذا یہ ضروری امر تھا کہ بہت سا حصہ اس تعلیم اور رسوم کا ان میں جاری ہو جاتا کیونکہ ان کی نگاہ میں مسیح عزت کی نظر سے دیکھا گیا اور بدھ قرار دیا گیا۔ اس لئے ان لوگوں نے اس کی باتوں کو اپنی کتابوں میں لکھا اور گوتم بدھ کی طرف نوٹ: جیسا کہ عیسائیوں میں عشاء ربانی ہے ایسا ہی بدھ مذہب والوں میں بھی ہے۔ منہ