مسیح ہندوستان میں — Page 67
۶۷ مسیح ہندوستان میں روحانی خزائن جلد ۱۵ اور ایک عصا ہاتھ میں ہوتا تھا۔ اور ہمیشہ ملک یہ ملک اور شہر بشہر پھرتے تھے اور جہاں رات پڑ جاتی (۶۵) وہیں رہ جاتے تھے۔ جنگل کی سبزی کھاتے تھے اور جنگل کا پانی پیتے اور پیادہ سیر کرتے تھے۔ ایک دفعہ سیاحت کے زمانہ میں ان کے رفیقوں نے ان کے لئے ایک گھوڑا خریدا اور ایک دن سواری کی مگر چونکہ گھوڑے کے آب و دانہ اور چارے کا بندوبست نہ ہو سکا اس لئے اس کو واپس کر دیا۔ وہ اپنے ملک سے سفر کر کے نصیبین میں پہنچے جو ان کے وطن سے کئی سوکوس کے فاصلہ پر تھا۔ اور آپ کے ساتھ چند حواری بھی تھے۔ آپ نے حواریوں کو تبلیغ کے لئے شہر میں بھیجا۔ مگر اس شہر میں حضرت عیسی علیہ السلام اور ان کی والدہ کی نسبت غلط اور خلاف واقعہ خبریں پہنچی ہوئی تھیں اس لئے اس شہر کے حاکم نے حواریوں کو گرفتار کر لیا۔ پھر حضرت عیسی علیہ السلام کو بلایا۔ آپ نے اعجازی برکت سے بعض بیماروں کو اچھا کیا اور اور بھی کئی معجزات دکھلائے۔ اس لئے نصیبین کے ملک کا بادشاہ مع تمام لشکر اور باشندوں کے آپ پر ایمان لے آیا اور نزول مائدہ کا قصہ جو قرآن شریف میں ہے وہ واقعہ بھی ایام سیاحت کا ہے“۔ یہ خلاصہ بیان تاریخ روضة الصفا ہے۔ اور اس جگہ مصنف کتاب نے بہت سے بیہودہ اور لغو اور دور از عقل معجزات بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف منسوب کئے ہیں۔ جن کو ہم افسوس کے ساتھ چھوڑتے ہیں اور اپنی اس کتاب کو ان جھوٹ اور فضول اور مبالغہ آمیز باتوں سے پاک رکھ کر صرف اصل مطلب اس سے لیتے ہیں جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام سیر کرتے کرتے نصیبین تک پہنچ گئے تھے اور نیوین موصل اور شام کے درمیان ایک شہر ہے جس کو انگریزی نقشوں میں نسی بس کے نام سے لکھا ہے۔ جب ہم ملک شام سے فارس کی طرف سفر کریں تو ہماری راہ میں نصیرین آئے گا اور وہ بیت المقدس سے قریباً ساڑھے چار سو کوس ہے اور پھر صبین سے قریباً ۴۸ میل موصل ہے جو بیت المقدس سے پانسو میل کے فاصلہ پر ہے اور موصل سے فارس کی حد صرف سومیل رہ جاتی ہے اس حساب سے نصیبین فارس کی حد سے ڈیڑھ سو میل پر ہے اور فارس کی مشرقی حد افغانستان کے شہر ہرات تک ختم ہوتی ہے یعنی فارس کی طرف ہرات افغانستان کی مغربی حد