مجموعہ آمین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 498 of 615

مجموعہ آمین — Page 498

روحانی خزائن جلد۱۷ ۴۹۸ مجموعه آمین بشارت دی کہ اک بیٹا ہے تیرا جو ہو گا ایک دن محبوب میرا کروں گا دور اُس مہ سے اندھیرا دکھاؤں گا کہ اک عالم کو پھیرا بشارت کیا ہے اک دل کی غذا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْاعَادِي مری ہر بات کو تو نے جلا دی مری ہر روک بھی تو نے اُٹھا دی پیش گوئی خود بنا دی تری نَسُلًا بَعِيدًا بھی دکھا دی مری ہر جو دی ہے مجھ کو وہ کس کو عطا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي بہار آئی ہے اس وقت خزاں میں لگے ہیں پھول میرے بوستاں میں ملاحت ہے عجب اس دلستاں میں ہوئے بدنام ہم اس سے جہاں میں عدد جب بڑھ گیا شور و فغاں میں نہاں ہم ہو گئے یار نہاں میں ہوا مجھ پر وہ ظاہر میرا ہادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْاعَادِي کروں کیونکر ادا میں شکر باری فدا ہو اُس کی رہ میں عمر ساری مرے سر پر ہے منت اس کی بھاری چلی اس ہاتھ سے مری بگڑی ہوئی اُس نے بنا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْاعَادِي تجھے حمد و ثنا زیبا ہے پیارے کشتی ہماری کہ تو نے کام سب میرے سنوارے ترے احساں مرے سر پر ہیں بھارے چمکتے ہیں وہ سب جیسے ستارے گڑھے میں تو نے سب دشمن اتارے ہمارے کر دیئے اونچے منارے