محمود کی آمین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 339 of 494

محمود کی آمین — Page 339

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۳۷ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ایسا ہی یسوع کی تین نانیاں زنا کی بُری حرکت میں مبتلا ہوئیں۔ پس ظاہر ہے کہ اگر یسوع (1) کی لعنتی قربانی پر ایمان لانا اندرونی پاکیزگی پیدا کرنے کے لئے کچھ اثر رکھتا تو اس کی نانیاں ضرور اس سے فائدہ اٹھا تیں اور ایسے قابل شرم گناہوں میں مبتلا نہ ہوتیں۔ ایسا ہی یسوع کے حواریوں سے بھی ایمان لانے کے بعد قابل شرم گناہ سرزد ہوئے۔ یہودا اسکر یوطی نے تمیں روپیہ پر یسوع کو بیچا اور پطرس نے سامنے کھڑے ہو کر تین مرتبہ یسوع پر لعنت بھیجی اور باقی سب بھاگ گئے۔ اور ظاہر ہے کہ نبی پر لعنت بھیجنا سخت گناہ ہے۔ اور یورپ میں جو آجکل شراب خواری اور زنا کاری کا طوفان برپا ہے اس کے لکھنے کی حاجت نہیں ۔ ہم اپنے کسی پہلے پرچہ میں بعض بزرگ پادری صاحبوں کی زنا کاری کا ذکر یورپ کے اخبارات کے حوالہ سے کر چکے ہیں۔ ان تمام واقعات سے بکمال صفائی ثابت ہوتا ہے کہ یہ عنتی قربانی گناہ سے روک نہیں سکی۔ اب دوسراشق یہ ہے کہ اگر گناہ رک نہیں سکتے تو کیا اس لعنتی قربانی سے ہمیشہ گناہ بخشے جاتے ہیں۔ گویا یہ ایک ایسا نسخہ ہے کہ ایک طرف ایک بدمعاش ناحق کا خون کر کے یا چوری کر کے یا جھوٹی گواہی سے کسی کے مال یا جان یا آبرو کو نقصان پہنچا کر اور یا کسی کے مال کونین کے طور پر دبا کر اور پھر اس لعنتی قربانی پر ایمان لا کر خدا کے بندوں کے حقوق کو ہضم کر سکتا ہے۔ اور ایسا ہی زنا کاری کی ناپاک حالت میں ہمیشہ رہ کر صرف لعنتی قربانی کا اقرار کر کے خدا تعالیٰ کے قہری مواخذہ سے بچ سکتا ہے۔ پس صاف ظاہر ہے کہ ایسا ہر گز نہیں بلکہ ارتکاب جرائم کر کے پھر اس لعنتی قربانی کی پناہ میں جانا بد معاشی کا طریق ہے۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ پولوس کے دل کو بھی یہ دھڑ کا شروع ہو گیا تھا کہ یہ اصول صحیح نہیں ہے اسی لئے وہ کہتا ہے کہ یسوع کی قربانی پہلے گناہ کے لئے ہے اور یسوع دوبارہ مصلوب نہیں ہو سکتا ، لیکن اس قول سے وہ بڑی مشکلات میں پھنس گیا ہے کیونکہ اگر یہی