محمود کی آمین — Page 336
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۳۴ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب میں جو یہودیوں کے ہاتھ میں ہیں اس لعنتی قربانی کا ذکر کیا جاتا کیونکہ کوئی عقلمند اس بات کو باور نہیں کر سکتا کہ خدا کا وہ ازلی ابدی قانون جو انسانوں کی نجات کے لئے اس نے مقرر کر رکھا ہے ہمیشہ بدلتا ر ہے اور توریت کے زمانہ میں کوئی اور ہوا اور انجیل کے زمانہ میں کوئی اور قرآن کے زمانہ میں کوئی اور ہو اور دوسرے نبی جو دنیا کے اور حصوں میں آئے ان کے لئے کوئی اور ہو۔ اب ہم جب تحقیق اور تفتیش کی نظر سے دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ توریت اور یہودیوں کی تمام کتابوں میں اس لعنتی قربانی کی تعلیم نہیں ہے چنانچہ ہم نے ان دنوں میں بڑے بڑے یہودی فاضلوں کی طرف خط لکھے اور ان کو خدا تعالیٰ کی قسم دے کر پوچھا کہ انسانوں کی نجات کے لئے توریت اور دوسری کتابوں میں تمہیں کیا تعلیم دی گئی ہے؟ کیا یہ تعلیم دی گئی ہے کہ خدا کے بیٹے کے کفارہ اور اس کی قربانی پر ایمان لاؤ؟ یا کوئی اور تعلیم ہے؟ تو انہوں نے یہ جواب دیا کہ نجات کے بارے میں توریت کی تعلیم بالکل قرآن کے مطابق ہے یعنی خدا کی طرف سچا رجوع کرنا اور گناہوں کی معافی چاہنا اور جذبات نفسانیہ سے دور ہو کر خدا کی رضا کے لئے نیک اعمال بجالانا اور اس کے حدود اور قوانین اور احکام اور وصیتوں کو بڑے زور اور بختی کشی کے ساتھ بجالانا یہی ذریعہ نجات ہے جو بار بار توریت میں ذکر کیا گیا جس پر ہمیشہ خدا کے مقدس نبی پابندی کراتے چلے آئے ہیں اور جس کے چھوڑنے پر عذاب بھی نازل ہوتے رہے ہیں۔ اور ان فاضل یہودیوں نے صرف یہی نہیں کیا کہ اپنی مفصل چٹھیات سے مجھ کو جواب دیا بلکہ انہوں نے اپنے محقق فاضلوں کی نا در اور بے مثل کتابیں جو اس بارے میں لکھی گئی تھیں میرے پاس بھیج دیں جو اب تک موجود ہیں اور چٹھیات بھی موجود ہیں۔ جو شخص دیکھنا چاہے میں دکھا سکتا ہوں اور ارادہ رکھتا ہوں کہ ایک مفصل کتاب میں وہ سب اسناد درج کر دوں ۔ اب ایک عقلمند کو نہایت انصاف اور دل کی صفائی کے ساتھ سوچنا چاہیے کہ اگر