محمود کی آمین — Page 332
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۳۰ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلَى جَنَّتِى یعنی اے وہ نفس جو خدا سے آرام یافتہ ہے اپنے رب کی طرف واپس چلا آ وہ تجھ سے راضی اور تو اس سے راضی پس میرے میر بندوں میں داخل ہو جا اور میرے بہشت کے اندرآ۔ غرض گناہ کے دور کرنے کا علاج صرف خدا کی محبت اور عشق ہے۔ لہذا وہ تمام اعمال صالحہ جو محبت اور عشق کے سرچشمہ سے نکلتے ہیں گناہ کی آگ پر پانی چھڑکتے ہیں کیونکہ انسان خدا کے لئے نیک کام کر کے اپنی محبت پر مہر لگاتا ہے۔ خدا کو اس طرح پر مان لینا کہ اس کو ہر ایک چیز پر مقدم رکھنا یہاں تک کہ اپنی جان پر بھی۔ یہ وہ پہلا مرتبہ محبت ہے جو درخت کی اس حالت سے مشابہ ہے جبکہ وہ زمین میں لگایا جاتا ہے اور پھر دوسرا مرتبہ استغفار جس سے یہ مطلب ہے کہ خدا سے الگ ہو کر انسانی وجود کا پردہ نہ کھل جائے اور یہ مرتبہ درخت کی اس حالت سے مشابہ ہے جبکہ وہ زور کر کے پورے طور پر اپنی جڑ زمین میں قائم کر لیتا ہے۔ اور پھر تیسرا مرتبہ تو بہ جو اس حالت کے مشابہ ہے کہ جب درخت اپنی جڑیں پانی سے قریب کر کے بچہ کی طرح اس کو چوستا ہے۔ غرض گناہ کی فلاسفی یہی ہے کہ وہ خدا سے جدا ہو کر پیدا ہوتا ہے لہذا اس کا دور کرنا خدا کے تعلق سے وابستہ ہے۔ پس وہ کیسے نادان لوگ ہیں جو کسی کی خود کشی کو گناہ کا علاج کہتے ہیں ۔ یہ نسی کی بات ہے کہ کوئی شخص دوسرے کے سردرود پر رحم کر کے اپنے سر پر پتھر مار لے یا دوسرے کے بچانے کے خیال سے خود کشی کر لے۔ میرے خیال میں ہے کہ دنیا میں کوئی ایسا دانا نہیں ہو گا کہ ایسی خود کشی کو انسانی ہمدردی میں خیال کر سکے ۔ بیشک انسانی ہمدردی عمدہ چیز ہے اور دوسروں کے بچانے کیلئے تکالیف اٹھانا بڑے بہادروں کا کام ہے مگر کیا ان تکلیفوں کے اٹھانے کی یہی راہ ہے جو یسوع کی نسبت بیان کیا جاتا ہے۔ کاش اگر یسوع خود کشی سے الفجر : ۲۸ تا ۳۱