محمود کی آمین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 330 of 494

محمود کی آمین — Page 330

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۲۸ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب نہیں کرتا۔ بلکہ ہرگز جائز نہیں رکھتا کہ ایک کا گناہ یا ایک کی لعنت کسی دوسرے پر ڈالی جائے چہ جائیکہ کروڑہا لوگوں کی لعنتیں اکٹھی کر کے ایک کے گلے میں ڈال دی جائیں۔ قرآن شریف صاف فرماتا ہے کہ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى - یعنی ایک کا بوجھ دوسرا نہیں اٹھائے گا۔ لیکن قبل اسکے جو میں مسئلہ نجات کے متعلق قرآنی ہدایت بیان کروں مناسب دیکھتا ہوں کہ عیسائیوں کے اس اصول کی غلطی لوگوں پر ظاہر کر دوں ۔ تا وہ شخص جو اس مسئلہ میں قرآن اور انجیل کی تعلیم کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے وہ آسانی سے مقابلہ کر سکے۔ پس واضح ہو کہ عیسائیوں کا یہ اصول کہ خدا نے دنیا سے پیار کر کے دنیا کو نجات دینے کے لئے یہ انتظام کیا کہ نافرمانوں اور کافروں اور بدکاروں کا گناہ اپنے پیارے بیٹے یسوع پر ڈال دیا اور دنیا کو گناہ سے چھڑانے کے لئے اس کو لعنتی بنایا اور لعنت کی لکڑی سے لڑکا یا۔ یہ اصول ہر ایک پہلو سے فاسد اور قابل شرم ہے۔ اگر میزان عدل کے لحاظ سے اس کو جانچا جائے تو صریح یہ بات ظلم کی صورت میں ہے کہ زید کا گناہ بکر پر ڈال دیا جائے۔ انسانی کانشنس اس بات کو ہرگز پسند نہیں کرتا کہ ایک مجرم کو چھوڑ کر اس مجرم کی سزا غیر مجرم کو دی جائے اور اگر روحانی فلاسفی کے رو سے گنہ کی حقیقت پر غور کی جائے تو اس تحقیق کے رو سے بھی یہ عقیدہ فاسد ٹھہرتا ہے کیونکہ گناہ در حقیقت ایک ایسا زہر ہے جو اس وقت پیدا ہوتا ہے کہ جب انسان خدا کی اطاعت اور خدا کی پر جوش محبت اور محبانہ یاد الہی سے محروم اور بے نصیب ہو۔ اور جیسا کہ ایک درخت جب زمین سے اکھڑ جائے اور پانی چوسنے کے قابل نہ رہے تو وہ دن بدن خشک ہونے لگتا ہے اور اس کی تمام سرسبزی برباد ہو جاتی ہے۔ یہی حال اس انسان کا ہوتا ہے جس کا دل خدا کی محبت سے اکھڑا ہوا ہوتا ہے۔ پس خشکی کی طرح گناہ اس پر غلبہ کرتا ہے۔ سو اس خشکی کا علاج خدا کے قانون قدرت میں تین طور سے ہے۔ (۱) ایک محبت (۲) استغفار جس کے بنی اسرائیل: ۱۶