محمود کی آمین — Page 325
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۲۳ محمود کی آمین دل خوں میں غم کے مارے کشتی لگا کنارے یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يُرَانِی (۷) اس دل میں تیرا گھر ہے تیری طرف نظر ہے تجھ سے میں ہوں منور میرا تو تو قمر ہے تجھ پر میرا تو کل در پر تیرے یہ سر ہے یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي جب تجھ سے دل لگایا سوسو ہے غم اٹھایا تن خاک میں ملایا جاں پر وبال آیا پر شکر اے خدایا جاں کھو کے تجھ کو پایا یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يُرَانِي دیکھا ہے تیرا منہ جب چکا ہے ہم پر کو کب مقصود مل گیا سب ہے جام اب لبالب تیرے کرم سے یا رب میرا بر آیا مطلب یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي احباب سارے آئے تو نے یہ دن دکھائے تیرے کرم نے پیارے یہ مہرباں بلائے یہ دن چڑھا مبارک مقصود جسمیں پائے یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي مہماں جو کر کے الفت آئے بصد محبت دل کو ہوئی ہے فرحت اور جاں کو میری راحت پر دل کو پہنچے تم جب یاد آئے وقت رخصت یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي دنیا بھی اک سرا ہے بچھڑیگا جو ملا ہے گر سو برس رہا ہے آخر کو پھر جدا ہے شکوہ کی کچھ نہیں جا یہ گھر ہی بے بقا ہے یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يُرَانِي اے دوستو پیارو عقبی کو مت بسارو کچھ زادِ راہ لے لو کچھ کام میں گزاروں دنیا ہے جائے فانی دل سے اسے اتارو یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يُرَانِي جی مت لگاؤ اس سے دل کو چھڑاؤ اس سے رغبت ہٹاؤ اس سے بس دور جاؤ اس سے ۔ یارو یہ اژدہا ہے جاں کو بچاؤ اس سے یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يُرَانِي قرآں کتاب رحماں سکھائے راہِ عرفاں جو اسکے پڑھنے والے ان پر خدا کے فیضاں ان پر خدا کی رحمت جو اس پہ لائے ایماں یہ روز ہے مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي