لیکچر لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 296 of 597

لیکچر لدھیانہ — Page 296

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۹۶ لیکچر لدھیانہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے ارادے کی اس وقت تبدیلی ہوگی جب دلوں کی تبدیلی ہوگی۔ پس خدا سے ڈرو اور اس کے قہر سے خوف کھاؤ۔ کوئی کسی کا ذمہ وار نہیں ہو سکتا ۔ معمولی مقدمہ کسی پر ہو تو اکثر لوگ وفا نہیں کر سکتے ۔ پھر آخرت میں کیا بھروسہ رکھتے ہو جس کی نسبت فرمایا ۔ يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ آخِيْهِ مخالفوں کا تو یہ فرض تھا کہ وہ حسن ظنی سے کام لیتے اور لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِه عِلْم پر عمل کرتے مگر انہوں نے جلد بازی سے کام لیا۔ یا د رکھو پہلی قومیں اسی طرح ہلاک ہوئیں ۔ عقلمند وہ ہے جو مخالفت کر کے بھی جب اُسے معلوم ہو کہ وہ غلطی پر تھا اُسے چھوڑ دے مگر یہ بات تب نصیب ہوتی ہے کہ خدا ترسی ہو ۔ دراصل مردوں کا کام یہی ہے کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کریں ۔ وہی پہلوان ہے اور اُسی کو خدا تعالی پسند کرتا ہے۔ ان ساری باتوں کے علاوہ میں اب قیاس کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر چہ نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ میرے ساتھ ہیں۔ اجماع صحابہ بھی میری تائید کرتا ہے۔ نشانات اور تائیدات الہیہ میری مؤید ہیں۔ ضرورت وقت میرا صادق ہونا ظاہر کرتی ہے لیکن قیاس کے ذریعہ سے بھی حجت پوری ہو سکتی ہے۔ اس لئے دیکھنا چاہیے کہ قیاس کیا کہتا ہے؟ انسان کبھی کسی ایسی چیز کے ماننے کو طیار نہیں ہو سکتا جو اپنی نظیر نہ رکھتی ہو مثلاً اگر ایک شخص آکر کہے کہ تمہارے بچے کو ہوا اڑا کر آسمان پر لے گئی ہے یا بچہ کتا بن کر بھاگ گیا ہے تو کیا تم اس کی بات کو بلا وجہ معقول اور بلا تحقیق مان لو گے؟ کبھی نہیں ۔ اس لئے قرآن مجید نے فرمایا۔ فَسْتَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ۔ اب مسیح علیہ السلام کی وفات کے مسئلہ پر اور ان کے آسمان پر اُڑ جانے کے متعلق غور کرو ۔ قطع نظر ان دلائل کے جو اُن کی وفات کے متعلق ہیں یہ پکی بات ہے کہ کفار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آسمان پر چڑھ جانے کا معجزہ مانگا۔ اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو ہر طرح کامل اور افضل تھے ان کو چاہیے تھا کہ وہ آسمان پر چڑھ جاتے مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی وحی سے کیا جواب دیا ۔ قُل سُبْحَانَ رَبِّى هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًار سُولًا سے اس کا مفہوم عبس : ۳۵ بنی اسرائیل : ۳۷ النحل : ۴۴ بنی اسرآئیل: ۹۴