لیکچر لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 289 of 597

لیکچر لدھیانہ — Page 289

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۸۹ لیکچر لدھیانہ نے مجھے یہی جواب دیا کہ یہ محض افترا ہے۔ توریت سے کسی ایسے خدا کا پتہ نہیں ملتا۔ ہمارا وہ خدا ہے جو قرآن شریف کا خدا ہے یعنی جس طرح پر قرآن مجید نے خدا تعالی کی وحدت کی اطلاع دی ہے اسی طرح پر ہم تو ریت کے رو سے خدا تعالیٰ کو وحدہ لاشریک مانتے ہیں اور کسی انسان کو خدا نہیں مان سکتے ۔ اور یہ تو موٹی بات ہے اگر یہودیوں کے ہاں کسی ایسے خدا کی خبر دی گئی ہوتی جو عورت کے پیٹ سے پیدا ہونے والا تھا تو وہ حضرت مسیح کی ایسی سخت مخالفت ہی کیوں کرتے ؟ یہاں تک کہ انہوں نے اس کو صلیب پر چڑھوا دیا ۔ اور ان پر کفر کہنے کا الزام لگاتے تھے ۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس امر کو ماننے کے لئے قطعاً طیارنہ تھے ۔ غرض عیسائیوں نے گناہ کے دور کرنے کا جو علاج تجویز کیا ہے وہ ایسا علاج ہے جو بجائے خود گناہ کو پیدا کرتا ہے اور اس کو گناہ سے نجات پانے کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ انہوں نے گناہ کے دور کرنے کا علاج گناہ تجویز کیا ہے جو کسی حالت اور صورت میں مناسب نہیں۔ یہ لوگ اپنے نادان دوست ہیں اور ان کی مثال اس بندر کی سی ہے جس نے اپنے آقا کا خون کر دیا تھا۔ اپنے بچاؤ کے لئے اور گناہوں سے نجات پانے کے لئے ایک ایسا گناہ تجویز کیا جو کسی صورت میں بخشا نہ جاوے یعنی شرک کیا اور عاجز انسان کو خدا بنالیا۔ مسلمانوں کے لئے کس قدر خوشی کا مقام ہے کہ ان کا خدا ایسا خدا نہیں جس پر کوئی اعتراض یا حملہ ہو سکے۔ وہ اس کی طاقتوں اور قدرتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کی صفات پر یقین لاتے ہیں مگر جنہوں نے انسان کو خدا بنایا یا جنہوں نے اس کی قدرتوں سے انکار کر دیا۔ اُن کے لئے خدا کا عدم ووجود برابر ہے جیسے مثلاً آریوں کا مذہب ہے کہ ذرہ ذرہ اپنے وجود کا آپ ہی خدا ہے اور اس لئے کچھ بھی پیدا نہیں کیا ۔ اب بتاؤ کہ جب ذرات کے وجود کا خالق خدا نہیں تو ان کے قیام کے لئے خدا کی حاجت کیا ہے جبکہ طاقتیں خود بخو دموجود ہیں اور ان میں اتصال اور انفصال کی قو تیں بھی موجود ہیں تو پھر انصاف سے بتاؤ کہ ان کے لئے خدا کے وجود کی کیا ضرورت ہے؟ میں سمجھتا ہوں اس عقیدہ کو