لیکچر لاہور

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 26 of 597

لیکچر لاہور — Page 26

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۶ تذكرة الشهادتين ایسے وقت میں آیا تھا جبکہ <mark><mark>یہود</mark>ی</mark> اپنی سلطنت کھو چکے تھے یعنی اس ملک میں <mark><mark>یہود</mark>ی</mark>وں کی کوئی سلطنت نہیں رہی تھی گو ممکن تھا کہ کسی اور ملک میں جہاں بعض فرقے <mark>یہود</mark> کے چلے گئے تھے کوئی حکومت ان کی قائم ہوگئی ہو جیسا کہ سمجھا جاتا ہے کہ افغان اور ایسا ہی کشمیری بھی <mark>یہود</mark> میں سے ہیں (۲۳) جن کا اسلام قبول کرنے کے بعد سلاطین میں داخل ہونا ایک ایسا واقعہ ہے جس سے انکار نہیں ہو سکتا۔ بہر حال حضرت مسیح کے ظہور کے وقت اس حصہ ملک سے <mark>یہود</mark> کی سلطنت جاتی رہی تھی اور وہ رومی سلطنت کے ماتحت زندگی بسر کرتے تھے اور رومی سلطنت کو انگریزی سلطنت سے بہت مشابہت تھی (۳) تیسری یہ کہ وہ ایسے وقت میں آیا تھا کہ جبکہ <mark><mark>یہود</mark>ی</mark> بہت سے فرقوں پر منقسم ہو چکے تھے اور ہر ایک فرقہ دوسرے فرقہ کا مخالف تھا اور ان سب میں با ہم سخت عناد اور خصومتیں پیدا ہوگئی تھیں اور توریت کے اکثر احکام بباعث ان کے کثرت اختلافات کے مشتبہ ہو گئے تھے صرف وحدانیت الہی میں وہ باہم اتفاق رکھتے تھے باقی اکثر مسائل جزئیہ میں وہ ایک دوسرے کے دشمن تھے اور کوئی واعظ ان میں باہم صلح نہیں کر سکتا تھا اور نہ ان کا فیصلہ کر سکتا تھا۔ اس صورت میں وہ ایک آسمانی حکم یعنی فیصلہ کنندہ کے محتاج تھے جو خدا سے جدید وحی پا کر اہل حق کی حمایت کرے اور قضاء وقدر سے ایسی ضلالت کی ملونی ان کے کل فرقوں میں ہوگئی تھی جو خالص طور پر ان میں ایک بھی اہل حق نہیں کہلا سکتا تھا۔ ہر ایک فرقہ میں کچھ نہ کچھ جھوٹ اور افراط و تفریط کی آمیزش تھی۔ پس یہی وجہ پیدا ہو گئی تھی کہ <mark>یہود</mark> کے تمام فرقوں نے حضرت مسیح کو دشمن پکڑ لیا تھا اور ان کی جان لینے کی فکر میں ہو گئے تھے کیونکہ ہر ایک فرقہ چاہتا تھا کہ حضرت مسیح پورے طور پر ان کا مصدق ہو اور ان کو راستباز اور نیک چلن خیال کرے اور ان کے مخالف کو جھوٹا کہے اور ایسا مداہنہ خدا تعالیٰ کے نبی سے غیر ممکن تھا۔ (۴) چہارم یہ کہ مسیح ابن مریم کے لئے جہاد کا حکم نہ تھا اور حضرت موسی کا مذہب یونانیوں اور رومیوں کی نظر میں اس وجہ سے بہت بدنام ہو چکا تھا کہ وہ دین کی ترقی کے لئے تلوار سے کام لیتا رہا ہے گو کسی بہانہ سے۔ چنانچہ اب تک ان کی کتابوں میں موسٹی کے مذہب پر برابر یہ اعتراض ہیں کہ کئی لاکھ شیر خوار بچے اس کے حکم اور نیز اس کے خلیفہ یشوع کے حکم سے جو اس کا جانشین تھا قتل کئے گئے اور پھر داؤد اور دوسرے نبیوں کی لڑائیاں بھی اس اعتراض کو چمکاتی تھیں