لیکچر لاہور

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 215 of 597

لیکچر لاہور — Page 215

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۱۳ لیکچر سیالکوٹ ہلاک کر کے اسلام کو جزیرہ عرب میں قائم کر دیا اور اس نصرت الہی سے یہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا اور آخری زمانہ میں یہ مشابہت ہے کہ خدا تعالیٰ نے ملت موسوی کے آخری زمانہ میں ایک ایسا نبی مبعوث فرمایا جو جہاد کا مخالف تھا اور دینی لڑائیوں سے اُسے کچھ سروکار نہ تھا بلکہ عفو اور در گذر اس کی تعلیم تھی۔ اور وہ ایسے وقت میں آیا تھا جبکہ بنی اسرائیل کی اخلاقی حالتیں بہت بگڑ چکی تھیں اور اُن کے چال چلن میں بہت فتور واقع ہو گیا تھا اور اُن کی سلطنت جاتی رہی تھی اور وہ رومی سلطنت کے ماتحت تھے اور وہ حضرت موسیٰ سے ٹھیک ٹھیک چودھویں صدی پر ظاہر ہوا تھا اور اس پر سلسلہ اسرائیلی نبوت کا ختم ہو گیا تھا اور وہ اسرائیلی نبوت کی آخری اینٹ تھی ۔ ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانہ میں مسیح ابن مریم کے رنگ اور صفت میں اس راقم کو مبعوث فرمایا اور میرے زمانہ میں رسم جہاد کو اٹھا دیا جیسا کہ پہلے سے خبر دی گئی تھی کہ مسیح موعود کے زمانہ میں جہاد کو موقوف کر دیا جائے گا۔ اسی طرح مجھے عفو اور درگزر کی تعلیم دی گئی اور میں ایسے وقت میں آیا جب کہ اندرونی حالت اکثر مسلمانوں کی یہودیوں کی طرح خراب ہو چکی تھی اور روحانیت کم ہو کر صرف ۱۴ رسوم اور رسم پرستی اُن میں باقی رہ گئی تھی اور قرآن شریف میں ان امور کی طرف پہلے سے اشارہ کیا گیا تھا جیسا کہ ایک جگہ مسلمانوں کے آخری زمانہ کے لئے قرآن شریف نے وہ لفظ استعمال کیا ہے جو یہود کے لئے استعمال کیا تھا یعنی فرمایا فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ جس کے یہ معنی ہیں کہ تم کو خلافت اور سلطنت دی جائے گی مگر آخری زمانہ میں تمہاری بد اعمالی کی وجہ سے وہ سلطنت تم سے چھین لی جائے گی جیسا کہ یہودیوں سے چھین لی گئی تھی اور پھر سورہ نور میں صریح اشارہ فرماتا ہے کہ ہر ایک رنگ میں جیسے بنی اسرائیل میں خلیفے گذرے ہیں وہ تمام رنگ اس اُمت کے خلیفوں میں بھی ہوں گے۔ چنانچہ اسرائیلی خلیفوں المزمل : ۱۶ - الاعراف : ١٣٠