لیکچر لاہور

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 205 of 597

لیکچر لاہور — Page 205

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۰۳ لیکچر سیالکوٹ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ اسلام دنیا کے مذاہب پر اگر نظر کی جائے تو معلوم ہوگا کہ بجز اسلام ہر ایک مذہب اپنے اندر کوئی نہ کوئی غلطی رکھتا ہے اور یہ اس لئے نہیں کہ در حقیقت وہ تمام مذاہب ابتدا سے جھوٹے ہیں بلکہ اس لئے کہ اسلام کے ظہور کے بعد خدا نے ان مذاہب کی تائید چھوڑ دی اور وہ ایسے باغ کی طرح ہو گئے جس کا کوئی باغبان نہیں۔ اور جس کی آبپاشی اور صفائی کے لئے کوئی انتظام نہیں۔ اس لئے رفتہ رفتہ اُن میں خرابیاں پیدا ہو گئیں ۔ تمام پھل دار درخت خشک ہو گئے ۔ اور ان کی جگہ کانٹے اور خراب بوٹیاں پھیل گئیں اور روحانیت جو مذہب کی جڑھ ہوتی ہے وہ بالکل جاتی رہی اور صرف خشک الفاظ ہاتھ میں رہ گئے مگر خدا نے اسلام کے ساتھ ایسا نہ کیا اور چونکہ وہ چاہتا تھا کہ یہ باغ ہمیشہ سرسبز رہے اس لئے اُس نے ہر یک صدی پر اس باغ کی نئے سرے آبپاشی کی اور اس کو خشک ہونے سے بچایا ۔ اگر چہ ہر صدی کے سر پر جب کبھی کوئی بندہ خدا اصلاح کے لئے قائم ہوا جاہل لوگ اس کا مقابلہ کرتے رہے اور اُن کو سخت ناگوار گذرا کہ کسی ایسی غلطی کی اصلاح ہو جو اُن کی رسم اور عادت میں داخل ہو چکی ہے لیکن خدا تعالیٰ نے اپنی سنت کو نہ چھوڑا یہاں تک کہ اس آخری زمانہ میں جو ہدایت اور ضلالت کا آخری جنگ ہے خدا نے چودھویں صدی اور الف آخر کے سر پر مسلمانوں کو غفلت میں پا کر پھر اپنے عہد کو یاد کیا (۲) اور دین اسلام کی تجدید فرمائی مگر دوسرے دینوں کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد