لیکچر لاہور — Page 163
روحانی خزائن جلد ۲۰ 171 لیکچر لاہور دنیا میں دیدار اور گفتار اور جنت کی نعمتوں کو پالیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ الَّذِينَ (۱۵) قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيْكَةُ إِلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ لا یعنی جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمارا خدا وہ خدا ہے جو جامع صفات کا ملہ ہے جس کی ذات اور صفات میں اور کوئی شریک نہیں اور یہ کہہ کر پھر وہ استقامت اختیار کرتے ہیں۔ اور کتنے ہی زلزلے آویں اور بلائیں نازل ہوں اور موت کا سامنا ہو۔ان کے ایمان اور صدق میں فرق نہیں آتا۔ اُن پر فرشتے اترتے ہیں اور خدا ان سے ہم کلام ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ تم بلاؤں سے اور خوفناک دشمنوں سے مت ڈرو اور نہ گذشتہ مصیبتوں سے غمگین ہو۔ میں تمہارے ساتھ ہوں اور میں اسی دنیا میں تمہیں بہشت دیتا ہوں جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا تھا۔ پس تم اس سے خوش ہو۔ اب واضح ہو کہ یہ باتیں بغیر شہادت کے نہیں اور یہ ایسے وعدے نہیں کہ جو پورے نہیں ہوئے بلکہ ہزاروں اہل دل مذہب اسلام میں اس روحانی بہشت کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ در حقیقت اسلام وہ مذہب ہے جس کے بچے پیروؤں کو خدا تعالیٰ نے تمام گذشتہ راستبازوں کا وارث ٹھہرایا ہے اور ان کی متفرق نعمتیں اس امت مرحومہ کو عطا کر دی ہیں اور اس نے اس دعا کو قبول کر لیا ہے جو قرآن شریف میں آپ سکھلائی تھی اور وہ یہ ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ۔ ہمیں وہ راہ دکھلا جو اُن راستبازوں کی راہ ہے جن پر تو نے ہر یک انعام اکرام کیا ہے یعنی جنہوں نے تجھ سے ہر ایک قسم کی برکتیں پائی ہیں اور تیرے مکالمہ مخاطبہ سے مشرف ہوئے ہیں اور تجھ سے دعاؤں کی قبولیتیں حاصل کی ہیں اور تیری نصرت اور مدد اور راہ نمائی اُن کے شامل حال ہوئی ہے۔ اور ان لوگوں کی راہوں سے ہمیں بچا جن پر تیرا غضب ہے اور جو تیری راہ کو چھوڑ کر اور اور راہوں کی طرف چلے گئے ہیں۔ یہ وہ دعا ہے جو نماز میں پانچ وقت پڑھی جاتی ہے اور یہ بتلا رہی ہے کہ اندھا ہونے کی حالت میں دنیا کی زندگی بھی ایک جہنم ہے اور پھر مرنا بھی ایک جہنم ہے اور درحقیقت خدا کا سچا تابع اور واقعی نجات پانے والا وہی ہو سکتا ہے جو خدا کو پہچان لے اور اُس کی ہستی پر کامل ایمان حم السجدة : ٢٣١ الفاتحة : ٧٦