کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 42 of 630

کتاب البریہ — Page 42

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۲ کتاب البرية وہ بادشاہ کی صورت میں ظاہر نہ ہوئے تب بہت سے کو نہ اندیش مرتد ہو گئے ۔ اور پہلی کتابوں میں تھا کہ جب تک ایلیا نہ آوے مسیح نہ آئے گا لیکن نصوص کے ظاہر کے لحاظ سے ایلیا اب تک نہیں آیا۔ ایسا ہی حضرت موسیٰ کی پیشگوئی میں جو نجات دلانے کے بارے میں تھی بنی اسرائیل نے شک کیا اور پیشگوئی کو جھوٹی سمجھا اور بعض لغزش کھانے والوں نے حدیبیہ کی پیشگوئی میں بھی شک کیا اور خیال کیا کہ وہ ظہور میں نہیں آئی لیکن در اصل شک کرنے والے غلطی پر تھے ۔ پس یہ تو عادت اللہ میں داخل ہے کہ بعض پیشگوئیاں مامورین کی جہلاء اور سفہاء اور کو نہ اندیشوں پر مشتبہ ہو جاتی ہیں اور خیال کرنے لگتے ہیں کہ وہ جھوٹی ہوئیں۔ پس محمد حسین ان ہی جہلاء کا بھائی ہے جو اس سے پہلے گزر چکے ہیں۔ میری نسبت وہ کوئی ایسا کلمہ نہیں کہتا جو پہلے اس سے خدا کے پاک نبیوں کی نسبت نہیں کہا گیا۔ غرض یہ کبھی نہ ہوا اور نہ ہوگا کہ تمام مامورین کی پیشگوئیاں جہلاء کی نظر میں صفائی سے پوری ہوگئی ہوں بلکہ محمد حسین کی طرح بعض جاہل نبیوں کی بعض پیشگوئیوں کی نسبت بھی کہتے رہے ہیں کہ وہ جھوٹی نکلیں ۔ چنانچہ حال میں ایک یہودی فاضل نے جو حضرت مسیح کے رڈ نبوت میں کتاب لکھی ہے اس کتاب میں ایک فہرست دی ہے کہ اتنی پیشگوئیاں اس شخص کی جھوٹی نکلیں ۔ حالانکہ سچے نبی کی تمام پیشگوئیاں ضرور پوری ہو جاتی ہیں۔ اور یہی فاضل یہودی لکھتا ہے کہ اس شخص کی تکذیب کے لئے ہمیں یہ کافی ہے کہ اس کی تعلیم توریت کی تعلیم سے صریح مخالف ہے اگر یہ خدا کا کلام ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ اس قدر تناقض پیدا ہوتا۔ پھر لکھتا (۲۳) ہے کہ دوسری یہ بات ہم یہودیوں کے لئے اس شخص کے قبول کرنے میں نہایت روک اور اس انکار میں خدا اور ہم میں ایک حجت ہے کہ ہمیں نبیوں کی زبانی خبر دی گئی ہے کہ وہ مسیح جس کا کتابوں میں وعدہ ہے ہر گز نہیں آئے گا جب تک پہلے اس سے ایلیا جو آسمان پر اٹھایا گیا ہے دنیا میں نہ آئے مگر وہ اب تک نہیں آیا۔ پھر یہ شخص اپنے دعوئی میسحیت میں کیونکر سچا