کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 37 of 630

کتاب البریہ — Page 37

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۷ کتاب البرية آپ کی جگہ یہ ہے مجھے شرمندہ نہ کیجئے۔ پس یہ جائے عبرت ہے کہ محمد حسین نے بیچی جتانے کے لئے اپنے منہ سے کرسی مانگی اور پھر بجائے کرسی کے جھڑ کیاں ملیں۔ کسی نے سچ کہا ہے بن مانگے موتی ملیں مانگے ملے نہ بھیک یعنی بغیر مانگنے کے موتی مل جاتے ہیں مگر مانگنے سے گدائی کا ٹکڑہ بھی نہیں ملتا۔ پھر تعجب ہے کہ اس شخص نے صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کے روبرو ہی لیکھر ام کے قتل کا قصہ شروع کر دیا۔ (۱۸) اور صاحب موصوف کو میری نسبت کہا کہ میں نے اپنے اشاعۃ السنہ میں یہ لکھا ہے کہ اس شخص سے لیکھرام کے قاتل کا پتہ پوچھنا چاہیے کہ الہام سے بتا دے کہ کون قاتل ہے اور مدعا اس متفنی بٹالوی کا یہ تھا ک لیکھر ام کا قاتل بھی یہی شخص ہے۔ اب ناظرین سوچیں! کہ اس شیخ بٹالوی کی کہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے ۔ میری عداوت کے لئے کیونکر دین اور دیانت کو چھوڑتا جاتا ہے۔ جب آریوں نے لیکھرام کے بارے میں شور مچایا تو ان کے ساتھ جا ملا اور اب جب پادریوں نے شور مچایا تو ان کے ساتھ جاملا۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ یہ اسلام کا مخالف کیا کرتا پھرتا ہے۔ لیکھرام کے قتل کو بار بار یاد دلانا یہ اس کی شرارت ہے کہ تا یہ بہتان میرے پر لگاوے۔ اور اس طرح پر خدا کی پیشگوئی کو بے عزت کر کے معدوم کر دیوے۔ میں بار بارلکھ چکا ہوں کہ لیکھرام کی نسبت میں نے از خود پیشگوئی نہیں کی بلکہ میرے خدا نے اس کی نسبت اس وقت مجھے خبر دی تھی جبکہ خود دیکھر ام نے نہایت شوخی سے موت کی پیشگوئی کو مانگا تھا پھر جبکہ لیکھرام کو مارنا بطور عذاب کے تھا تو کیونکر خدا تعالی قاتل کا نام بتاوے اور اپنے انتظام کو آپ خراب کرے ہاں محمد حسین اگر ہندوؤں کا در حقیقت خیر خواہ ہے تو قاتل کا نام معلوم کرنے کے لئے ایک تدبیر کر سکتا ہے اور وہ یہ کہ لیکھر ام کے قاتل کا ان لوگوں کے ذریعہ سے پتہ دریافت کرے جو اس کے گروہ میں ملہم کہلاتے اور مجھے کافر جانتے ہیں۔