کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 34 of 630

کتاب البریہ — Page 34

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۴ کتاب البرية لیکن بعض وجوہ کے رو سے اس کو نوکر نہیں رکھا گیا تھا اور یوں تو ہمیشہ نہایت اعتقاد اور ارادت کے ساتھ آتا تھا۔ محمد حسین پر سخت ناراض تھا اور وہ کلمات کہتا تھا جن کا ذکر کرنا اس جگہ مناسب نہیں۔ بعض خطوط بھی اس کے محمد حسین کے نا گفتنی حالات کی نسبت میرے پاس (۱۵) اب تک موجود ہوں گے جن کو وہ عدالت تک پہنچانا چاہتا تھا اور میں نے اس کو بار بار منع کیا تھا اور کئی دفعہ محمد حسین کو اس کے قدموں پر گرایا تھا تا اس طرح پر رحیم بخش اس کی پردہ دری سے باز رہے اور اس بات کا میں ہی سبب تھا کہ وہ ان خیالات سے کسی قدر باز رہا ورنہ میں نے سنا ہے کہ مولوی غلام علی امرتسری وغیرہ حاسد طبع ملا اس کو محمد حسین کے خوار کرنے کے لئے برانگیختہ کرتے تھے ۔ غرض نہ محمد حسین کبھی کرسی نشین رئیسوں میں داخل ہوا اور نہ اس کا باپ اور نہ اس کا دادا۔ اور اگر یہ لوگ کرسی نشین تھے تو سرلیپل گریفن صاحب نے بڑی ہی غلطی کی کہ جب پنجاب کے کرسی نشین رئیسوں کے حالات لکھنے میں ایک کتاب طیار کی تو اس کتاب میں ان دونوں بیچاروں کا کچھ بھی ذکر نہیں کیا اور نیز اس صورت میں حکام ضلع کی بڑی غفلت ہے کہ باوجود یکہ یہ دونوں باپ بیٹے قدیم سے کرسی نشین تھے مگر پھر بھی حکام نے اپنے ضلع کی فہرست میں اس باپ بیٹے کا اب تک کرسی نشینوں میں نام نہ لکھا۔ افسوس کہ ایسے مولویوں کے ہی جھوٹوں نے جو گواہی کے موقعہ پر بھی جھوٹ کو شیر مادر سمجھتے ہیں مخالفوں کو مسلمانوں پر اعتراض کرنے کا موقعہ دیا ہے ۔ جب یہ لوگ مولوی کہلا کر ایسے گندے جھوٹ بولیں اور عدالت کے سامنے گواہی کے موقعہ پر خلاف واقعہ بیان کریں تو ان کے چیلوں کا کیا حال ہوگا۔ افسوس کہ اس بٹالہ کے ملا کو کرسی لینے کا شوق کیوں پیدا ہوا۔ اس کے خاندان میں کون کرسی نشین تھا۔ بہتر تھا کہ چپکے پادریوں کی گواہی دے کر چلا جاتا تا پردہ بنارہتا۔ کسی کو معلوم ہی نہ تھا کہ آپ کو کرسی نہیں ملتی ۔ اختیار تھا کہ آپ دوستوں میں لاف مارتے کہ مجھے کرسی ملی تھی۔ مگر کرسی مانگ کر اپنے خاندان کا سارا پردہ پھاڑ دیا۔ اور