کتاب البریہ — Page 25
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۵ كتاب البرية طور پر بیان فرمایا گیا ہے کہ عیسائیوں کا تمام بگاڑ اور گمراہی حضرت عیسی کی وفات کے بعد ہوئی ہے تو اب سوچنا چاہیے کہ حضرت عیسی کو اب تک زندہ ماننے میں یہ اقرار بھی کرنا پڑتا ہے کہ اب تک عیسائی بھی گمراہ نہیں ہوئے ۔ اور یہ ایک ایسا خیال ہے جس سے ایمان جانے کا نہایت خطرہ ہے۔ میں اس وقت محض قوم کی ہمدردی سے اصل بات سے دور جا پڑا اور اصل تذکرہ یہ تھا کہ خدا تعالیٰ نے شتر اعد ا سے حضرت عیسی علیہ السلام کو بچالیا تھا چنانچہ خود حضرت مسیح نے فرمایا تھا کہ میری مثال یونس نبی کی طرح ہے اور یونس کی طرح میں بھی تین دن قبر میں رہوں گا۔ اب ظاہر ہے کہ مسیح جو نبی تھا اس کا قول جھوٹا نہیں ہوسکتا اس نے اپنے قصہ کو یونس کے قصہ سے مشابہ قرار دیا ہے اور چونکہ یونس مچھلی کے پیٹ میں نہیں مرا بلکہ زندہ رہا اور زندہ ہی داخل ہوا تھا اس لئے مشابہت کے تقاضا سے ضروری طور پر ماننا پڑتا ہے کہ مسیح بھی قبر میں نہیں مرا اور نہ مردہ داخل ہوا۔ ورنہ مردہ کو زندہ سے کیا مشابہت؟ غرض اس طرح پر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کو دشمنوں کے شر سے بچالیا۔ ایسا ہی موسیٰ علیہ السلام کو بھی اس نے فرعون کے بدارادہ سے بچایا۔ ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مگه کے دشمنوں کے ہاتھ سے بچایا۔ مکہ والوں نے اتفاق کر کے باہم عہد کر لیا تھا کہ اس شخص کو جو ہر وقت خدا خدا کرتا اور ہمارے بتوں کی اہانت کرتا ہے گرفتار کر کے برے عذاب کے ساتھ اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیں ۔ مگر خدا نے اپنی خدائی کا کرشمہ ایسا دکھلایا کہ اول اپنی وحی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دے دی کہ اس وقت اس شہر سے نکل جانا چاہیے کہ دشمن قتل کرنے پر متفق اللفظ ہو گئے ہیں ۔ پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک وفادار رفیق کے ساتھ جو صدیق اکبر تھا شہر سے باہر جا کر ایک غار میں چھپ گئے جس کا نام ثور تھا جس کے معنے ہیں توران فتنہ یہ نام پہلے سے پیشگوئی کے طور پر چلا آتا تھا تا اس واقعہ کی طرف اشارہ ہو، غرض جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم