کتاب البریہ — Page 17
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۷ كتاب البرية کے نبیوں کو جنہوں نے خدا کے الہام کا دعویٰ کیا اور مقبول خلائق ہو گئے اور ان کا دین زمین پر حجم گیا خواہ وہ ہندی تھے یا فارسی۔ چینی تھے یا عبرانی خواہ کسی اور قوم میں سے تھے در حقیقت کیجے رسول مان لیں۔ اور اگر ان کی امتوں میں کوئی خلاف حق باتیں پھیل گئی ہوں تو ان باتوں کو ایسی غلطیاں قرار دیں جو بعد میں داخل ہو گئیں۔ یہ اصول ایک ایسا دلکش اور پیارا ہے جس کی برکت سے انسان ہر ایک قسم کی بدزبانی اور بدتہذیبی سے بچ جاتا ہے اور درحقیقت واقعی امر یہی ہے کہ جھوٹے نبی کو خدا تعالیٰ اپنے کروڑ ہا بندوں میں ہرگز قبولیت نہیں بخشا اور اُس کو وہ عزت نہیں دیتا جو بچوں کو دی جاتی ہے اور صدیوں اور زمانوں میں اس کی قبولیت ہرگز قائم نہیں رہ سکتی بلکہ بہت جلد اس کی جماعت متفرق ہو جاتی اور اس کا سلسلہ درہم برہم ہو جاتا ہے۔ سوائے دوستو اس اصول کو محکم پکڑو۔ ہر ایک قوم کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ۔ نرمی سے عقل بڑھتی ہے اور بُردباری سے گہرے خیال پیدا ہوتے ہیں ۔ اور جو شخص یہ طریق اختیار نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ اگر کوئی ہماری جماعت میں سے مخالفوں کی گالیوں اور سخت گوئی پر صبر نہ کر سکے تو اس کا اختیار ہے کہ عدالت کے رو سے چارہ جوئی کرے۔ مگر یہ مناسب نہیں ہے کہ سختی کے مقابل پرختی کر کے کسی مفسدہ کو پیدا کریں۔ یہ تو وہ وصیت ہے جو ہم نے اپنی جماعت کو کر دی۔ اور ہم ایسے شخص سے بیزار ہیں اور اس کو اپنی جماعت سے خارج کرتے ہیں جو اس پر عمل نہ کرے۔ مگر ہم اپنی عادل گورنمنٹ سے یہ بھی امید رکھتے ہیں کہ جو لوگ آئندہ (1) مخالفانہ حملے تو ہین اور بدزبانی کے ساتھ ہم پر کریں یا ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یا قرآن شریف پر یا اسلام پر تو ان کی بد زبانی کا تدارک بھی واجب طور پر کیا جائے ۔ اور ہم لکھ چکے ہیں اور پھر دوبارہ لکھتے ہیں کہ ہماری یہ جماعت گورنمنٹ انگریزی کی سچی خیر خواہ ہے اور ہمیشہ خیر خواہ رہے گی۔ اور میری تمام جماعت کے لوگ در حقیقت غریب مزاج اور