کتاب البریہ — Page 15
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۵ كتاب البرية صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کے سامنے یہ عہد کر لیا ہے کہ آئندہ ہم سخت الفاظ سے کام نہ لیں گے اس لئے حفظ امن کے مقاصد کی تکمیل کے لئے ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے تمام مخالف بھی اس عہد کے کار بند ہوں۔ اور یہی وجہ تھی کہ ہم نے عدالت کے سامنے اس بحث کو طول دینا نہیں چاہا حالانکہ ہمارے تمام سخت الفاظ جوابی تھے اور نیز ان کے مقابل پر نہایت کم ۔ سو ہم نے جوابی طور کے سخت الفاظ کو بھی چھوڑنا چاہا۔ کیونکہ ہمارا مدت سے یہ ارادہ تھا کہ تمام قومیں مباحثات میں الفاظ کی سختی کو استعمال نہ کریں۔ اسی ارادہ کی وجہ سے ہم نے اس درخواست پر دستخط مسلمانوں کے کرائے ہیں جس کو عنقریب بحضور جناب نواب گورنر جنرل بہادر بھیجنے کا ارادہ ہے۔ سو مخالفین مذہب کو بذریعہ اس نوٹس کے عام اطلاع دی جاتی ہے کہ اس فیصلہ کے بعد وہ بھی مباحثات میں اپنی روشیں بدلا لیں ۔ اور آئندہ سخت اور جوش پیدا کرنے والے الفاظ اور ہتک آمیز الفاظ اپنے اخباروں اور رسالوں میں ہرگز استعمال نہ کریں۔ اور اگر اب بھی اس نوٹس کے شائع ہونے کے بعد انہوں نے اپنے سابق طریق کو نہ چھوڑا تو انہیں یا در ہے کہ ہمیں یا ہم میں سے کسی کو حق حاصل ہوگا کہ بذریعہ عدالت چارہ جوئی کریں۔ حفظ امن کے لئے ہر ایک قوم کا فرض ہے کہ فتنہ انگیز تحریروں سے اپنے تیں بچائے پس جو شخص اس نوٹس کے شائع ہونے کے بعد بھی اپنے تئیں سخت الفاظ اور (۱۳) بدزبانی اور توہین سے روک نہ سکے ایسا شخص در حقیقت گورنمنٹ کے مقاصد کا دشمن اور فتنہ پسند آدمی ہے۔ اور عدالت کا فرض ہوگا کہ امن کو قائم رکھنے کے لئے اس کی گوشمالی کرے۔ بحث کرنے والوں کے لئے یہ بہتر طریق ہوگا کہ کسی مذہب پر بے ہودہ طور پر اعتراض نہ کریں بلکہ ان کی مسلم اور معتبر کتابوں کی رو سے ادب کے ساتھ اپنے شبہات پیش کریں اور ٹھٹھے اور جنسی اور تو ہین سے اپنے تئیں بچاویں اور مباحثات میں حکیمانہ طرز اختیار کریں اور ایسے