کتاب البریہ — Page 11
روحانی خزائن جلد ۱۳ کتاب البرية میں پسند نہیں کرتا کہ ایسی درخواستوں پر کوئی انداری پیشگوئی کی جائے بلکہ آئندہ ہماری طرف سے یہ اصول رہے گا کہ اگر کوئی ایسی انذاری پیشگوئیوں کے لئے درخواست کرے تو اس کی طرف ہر گز توجہ نہیں کی جائے گی جب تک وہ ایک تحریری حکم اجازت صاحب مجسٹریٹ ضلع کی طرف سے پیش نہ کرے۔ یہ ایک ایسا طریق ہے جس میں کسی مکر کی گنجائش نہیں رہے گی۔ یہ بات بھی میں تسلیم کرتا ہوں کہ مخالفوں کے مقابل پر تحریری مباحثات میں کسی 10 ہے قدر میرے الفاظ میں سختی استعمال میں آئی تھی ۔ لیکن وہ ابتدائی طور پر سختی نہیں ہے بلکہ وہ تمام تحریر میں نہایت سخت حملوں کے جواب میں لکھی گئی ہیں ۔ مخالفوں کے الفاظ ایسے سخت اور دشنام دہی کے رنگ میں تھے جن کے مقابل پر کسی قدریختی مصلحت تھی۔ اس کا ثبوت اس مقابلہ سے ہوتا ہے جو میں نے اپنی کتابوں اور مخالفوں کی کتابوں کے سخت الفاظ اکٹھے کر کے کتاب مثل مقدمہ مطبوعہ کے ساتھ شامل کئے ہیں جس کا نام میں نے کتاب البریت رکھا ہے اور ہا ایں ہمہ میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ میرے سخت الفاظ جوابی طور پر ہیں ابتد ا ختی کی مخالفوں کی طرف سے ہے۔ اور میں مخالفوں کے سخت الفاظ پر بھی صبر کر سکتا تھا لیکن دو مصلحت کے سبب سے میں نے جواب دینا مناسب سمجھا تھا۔ اوّل یہ کہ تا مخالف لوگ اپنے سخت الفاظ کا سختی میں جواب پا کر اپنی روش بدلا لیں اور آئندہ تہذیب سے گفتگو کریں ۔ دوم یہ کہ تا مخالفوں کی نہایت ہتک آمیز اور غصہ دلانے والی تحریروں سے عام مسلمان جوش میں نہ آدیں اور سخت الفاظ کا جواب بھی کسی قدر سخت پا کر اپنی پُر جوش طبیعتوں کو اس طرح سمجھا لیں کہ اگر اس طرف سے سخت الفاظ استعمال ہوئے تو ہماری طرف سے بھی کسی قد رسختی کے ساتھ ان کو جواب مل گیا اور اس طرح وہ وحشیانہ انتقاموں سے دستکش رہیں میں خوب جانتا ہوں کہ ایسی مذہبی تحریروں سے جیسا کہ لیکھرام اور اندرمن