کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xliv of 630

کتاب البریہ — Page xliv

ٹائیٹل پیج کی عبارت شَهُرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنِ یماه جنوری ۱۸۹۸ء الہام اليس الله بکاف عبده ۔ ۔ فيراه الله مما قالوا و كان عند الله وجيها ۔ والله موهن كيد الكافرين۔ ولنجعله آية للناس ورحمة منا و كان امرًا مقضيا۔ صفحه ۵۱۶ براہین احمدیہ۔ کیا یہ ثابت نہیں ہوا کہ اپنے بندے کو خدا کافی ہے؟ خدا نے اس کو اس الزام سے بری کیا جو اس پر لگایا گیا تھا اور خدا نے یہی کرنا تھا کہ وہ کافروں کے منصوبہ کوست اور بے اثر کر دیتا۔ اور ہم اس کا رروائی کو بعض لوگوں کے لئے نشان رحمت بناویں گے کہ اس سے ان کا ایمان قوی ہوگا اور یہ امر ابتدا سے مقدر تھا دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۱۶۔ یہ پیشگوئی براہین احمدیہ میں اس مقدمہ سے اٹھارہ برس پہلے شائع ہوئی تھی اور پھر مقدمہ سے تین ماہ پہلے مندرجہ ذیل الہام اس ابتلاء کے بارے میں ہوئے ۔ قد ابتلى المومنون۔ ما هذا الا تهديد الحكام۔ ان الذي فرض عليك القرآن لر آذك الى معاد۔ اني مع الافواج آتيك بغتة۔ ياتيك نصرتي اني انا الرحمن ذو المجد و العلی مخالفوں میں پھوٹے اور ایک شخص متنافس کی ذلت اور اہانت اور سلامت خلق اور اخیر حکم ) ابراء بے قصور ٹھہرانا۔ بلجت ایاتی یعنی تجھ پر اور تیرے ساتھ کے مومنوں پر مواخذہ حکام کا ابتلا آئے گا وہ ابتلا صرف تہدید ہو گا۔ اس سے زیادہ نہیں ۔ وہ خدا جس نے خدمت قرآن تجھے سپرد کی ہے پھر تجھے قادیاں میں واپس لائے گا۔ میں اپنے فرشتوں کے ساتھ نا گہانی طور پر تیری مددکروں گا ۔ میری مدد تجھے پہنچے گی۔ میں ذوالجلال بلند شان والا رحمن ہوں۔ میں مخالفوں میں پھوٹ ڈالوں گا ( اس میں یہ اشارہ ہے کہ آخر عبد الحمید اور پادری گرے اور نور دین عیسائی مخالفانہ بیان دیں گے ) اور یہ فقرہ کہ منافس کی ذلت اور اہانت اور ملامت خلق یہ محمد حسین کی طرف اشارہ ہے کہ کرسی کے معاملہ میں اور پھر پاور یوں کے خلاف واقعہ شہادت پر طرح طرح کی ذلت اور ملامت خلق اس کو پیش آئی اور انجام کار یہ ہوگا کہ تمہیں بری اور بے قصور ٹھہرایا جائے گا۔ اور میرا نشان ظاہر ہوگا یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے پیشگوئی ہے جس سے قبل از وقت قریباً دو سو معزز دوستوں کو اطلاع دی گئی تھی اور جیسا کہ براہین احمدیہ صفحہ ۵۱۶ میں بری کرنے کا وعدہ اس مقدمہ سے اٹھارہ برس پہلے دیا گیا تھا وہی وعدہ دوبارہ اس الہام میں لفظ ابراء کے ساتھ دیا گیا۔ جس کی آنکھیں دیکھنے کی ہوں دیکھے کہ یہ کیسا نشان ہے اور تحقیق کرے کہ کیا یہ سچ ہے کہ نہیں کہ کئی مہینے پہلے ایک جماعت کثیر کو اس کی خبر دی گئی اور مندرجہ بالا الہامات سنائے گئے تھے اور اٹھارہ برس پہلے براہین احمدیہ میں اس کا ذکر ہو چکا تھا کہ یہ قبل از وقت خبر اس جماعت کے لئے بطور نشان ٹھہرے گی چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور ہماری جماعت نے جو قبل از وقت یہ سب الہام سنے تو ان کی قوت اور زیادت ایمان کا موجب ہوا ۔ کیا کوئی نیک دل قبول کر سکتا ہے کہ ایک جماعت بڑے بڑے معززوں کی جن میں تعلیم یافتہ ایم ۔ اے اور بی اے اور ایل ایل بی اور تحصیلدار اور اکسٹرا اسٹنٹ اور رئیس اور تاجر اور علماء و وکیل داخل ہیں وہ میرے لئے جھوٹ بولیں۔ سوچونکہ خدا تعالیٰ نے اس مقدمہ میں احزاب کو شکست دی اور ان میں پھوٹ ڈالی اور میری اہانت | چاہنے والے بٹالوی کو رسوا کیا اور قبل از وقت سب حال بتلا دیا۔ اس لئے اس نشان عظیم کے لحاظ سے اس کتاب مبارک کا نام یہ رکھا گیا كِتَابُ البَرِيَّة مع آيات رَبِّ البَريَّة مطبع ضیاء الاسلام قادیاں میں چھپی۔ تعداد جلد ۷۰۰ ڈاکٹر کلارک کے مقدمہ سے قریباً دو مہینے پہلے مجھے ایک خواب میں دکھائی دیا کہ ایک بجلی میرے مکان کی طرف آئی ہے مگر قبل اس کے کہ گرے واپس چلی گئی اور پھر الہام ہوا کہ کچھ نہیں صرف ایک تہدید حکام ہے اور پھر الہام ہوا کہ صادق آن باشد کہ ایام بلا می گذارد با محبت باوفا۔ اس سے میں نے سمجھا کہ کسی قدر حکام کی طرف سے بلا آئے گی اور اس موزوں الہام کے تصور سے معامیرے دل اور روح سے یہ شعر نکلا کہ گویا دوسرا بیت اُس کا ہے۔ گر قضا را عاشقی گردد اسیر بوسد آن زنجیر را کز آشنا + منه * اصل لفظ الہام کے بٹالوی کی نسبت بہت سخت تھے ہم نے نرم الفاظ میں ان کا ترجمہ کر دیا ہے پس کوئی شخص ہماری جماعت میں سے یہ خیال نہ کرے کہ وہ اصل الہامی الفاظ کیوں نہیں لکھے گئے ۔ منہ + انڈر لائن الفاظ روحانی خزائن کے ایڈیشن کے مطابق ہیں (ناشر)